نواز شریف کا چوتھی بار کا وزیراعظم بننے کا خواب ٹوٹ گیا

تاثیر،۹فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

اسلام آباد ،9فروری : پاکستان کے قومی اسمبلی کے انتخابات میں نواز شریف کی پارٹی مسلم لیگ ( ن) کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جب کہپاکستان تحریک انصاف پارٹی کے آزاد امیدواروں نے انہیں دھول چٹائی ۔ عمران خان کی پارٹی کے امیدواروں نے صوبے پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں شاندارکامیابی حاصل کی اور اپوزیشن جماعتوں کے بڑے بڑے رہنمائوں کو شکست فاش کردیا ۔ مسلم لیگ کے لئے سب سے بڑا دھچکا اس کے قائد نواز شریف کی ہار ہے۔ جس نے مانسہیر اور لاہور کے حلقوں سے آزاد امیداواروں سے شکست کھاگئے۔ حالانکہ تحریک انصاف پارٹی کو الیکشن میں حصہ لینے کے لئے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ لیکن پارٹی کے ووٹروں نے انہیں بڑی تعداد میں ووٹ ڈال کر نوازشریف کے منصوبے کو الٹ پلٹ کردیا ۔ نواز شریف جو چار سال تک لندن میں جلائے وطن کی زندگی بسر کررہے تھے ا سال اکتوبر میں پاکستان آئے اور اپنی پارٹی کی الیکشن مہم کی ذمہ داری سنبھالی ۔ تمام سروے کا یہ ماننا تھا کہ مسلم لیگ اگلی حکومت بنائے گی ۔ لیکن سارے جائزے غلط ثابت ہوئے۔ حد تو یہ ہے کہ جن رہنمائوں نے تحریک انصاف پارٹی چھوڑ دی ۔ ان کو ووٹروں نے سبق سکھایا اور ان میں صرف استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب ہوئے۔ چاہئے جہانگیر ترین ہو ں یا پرویز خٹک ان سارے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ آزاد حمایتی رہنمائوں میں سابق اسپیکر اسد قیصر ،سابق وزراء عمر ایوب او رنامور وکیل لطیف کھوسہ اور پی ٹی آئی کے موجودہ صدر بیریسٹر گوہر نے بڑی کامیابی حاصل کی ۔ جن نامور سیاست دانوں کو شکست ملی ان میں سعد رفیق ،رانا ثناء اللہ ،نواز شریف اور جاوید لطیف شامل ہیں۔ علماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کو بھی ڈیرہ اسماعیل خان سے شکست ہوئی لیکن وہ پشتین حلقے سے کامیاب ہوئے۔ پیپلز پارٹی شکست سے بچ گئی ۔ اور سندھ میں اپنا اقتدار قائم رکھنے میں کامیاب ہوگئی ۔ اس جماعت نے پنجاب کے کچھ حلقوں سے کامیابی حاصل کی جن میں یوسف رضا گیلانی ،راجہ اشرف بھی شامل ہیں۔ اس انتخاب میں متحدہ قومی موومنٹ کو بہت فائدہ ہوا اور ان کی سیٹیں بڑھ گئیں ۔