پاکستان کا بلوچستان بم اور دستی بم حملوں سے لرز اٹھا

تاثیر،۲فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

کوئٹہ، 02 فروری : پاکستان کے بلوچستان میں جمعرات کو کم از کم 10 مقامات پر بموں اور دستی بموں سے حملے کیے گئے۔ اس دوران ایک شخص کی موت ہو گئی۔ صوبائی حکومت کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کی۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے کئی تھانوں اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کو نشانہ بنایا۔ حملے میں ایک پولیس افسر اور جیل وارڈن سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے۔ ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کم از کم 10 مقامات پر بموں اور دستی بموں سے حملے کیے گئے۔
کوئٹہ کے ایس ایس پی (آپریشنز) جواد طارق کے مطابق کوئٹہ کے علاقے اسپنی میں سی پیک روڈ پر فٹ پاتھ پر نصب بم پھٹ گیا، جس کی وجہ سے ایک راہگیر کی موت ہو گئی۔ حکام کے مطابق زور دار دھماکے سے صوبائی دارالحکومت کے کئی علاقے لرز اٹھے۔ پولیس نے علاقے کومحاصرے میں لے کر لاش کو سول اسپتال پہنچا دیا۔اسپتال کے حکام نے بتایا کہ دھماکے کے وقت بم کے قریب ہونے کی وجہ سے مقتول کا جسم مسخ ہو گیا تھا۔ مقتول کی شناخت 84 سالہ عبدالخالق شاہ کے نام سے ہوئی ہے۔
ایس ایس پی طارق نے بتایا کہ دیسی ساختہ بم میں تقریباً آٹھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
کوئٹہ کے نواح میں ایک اور حملے میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر غلام رضا زخمی ہو گیے۔ شالکوٹ تھانے پر نامعلوم حملہ آوروں نے دستی بم پھینکا۔ دستی بم تھانے کے صحن میں پھٹ گیا، جس کی وجہ سے تھانے کی عمارت اور کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ زخمی پولیس اہلکار کو سول اسپتال داخل کرا دیا گیا۔
مستونگ میں سینٹرل جیل پر دستی بم سے حملہ کیا گیا۔ یہ دستی بم جیل کے اندر پھٹا، جس سے عمارت کو نقصان پہنچا۔ حملے میں جیل وارڈر زخمی ہوگیا۔ کوئٹہ، خضدار اور تربت میں مسلم لیگ ن اور نیشنل پارٹی کے دفاتر اور بی این پی ایم اور جے یو آئی ف کے مشترکہ دفتر کو دستی بموں سے نشانہ بنایا گیا۔ ڈھاڈر اور پنجگور میں ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر کو بھی دستی بموں سے نشانہ بنایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق کاچھی کے ڈپٹی کمشنر کے گھر پر دوسرے دستی بم حملے میں ایک شخص زخمی ہوگیا۔ تربت بازار کے علاقے میں دھماکے سے ایک شخص زخمی ہوا جب کہ پولیس اور ایف سی کی چوکیوں پر دستی بم بھی پھینکے گئے۔ حب سٹی تھانے پر بھی نامعلوم حملہ آوروں نے حملہ کیا۔ پاکستان کوسٹ گارڈ کے دفتر کے گیٹ سے ایک دستی بم برآمد ہوا ہے۔ ان حملوں کے بعد بلوچستان حکومت نے صوبے بھر کے تمام شہروں اور قصبوں میں سیکورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا کہ حملوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس نے انسپکٹر جنرل آف پولیس اور بلوچستان کے چیف سکریٹری سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی و مالی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔