ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر کو جنسی ہراسانی کے الزام میں تین ماہ کی چھٹی پر بھیجا گیا

تاثیر،۱۳فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

ڈھاکہ، 13 فروری : ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر نادر جنید کو تین ماہ کی چھٹی پر بھیج دیا گیا۔ نیز انہیں اس دوران تعلیمی سرگرمیوں سے مکمل طور پر دور رہنا ہوگا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ فیصلہ پروفیسر نادر جنید پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگنے کے بعد کیا۔
بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی اسٹار کے مطابق جب یہ واقعہ سامنے آیا تو یونیورسٹی کے طلبا نے پیر کو نعرے لگائے۔ طلبا کی تحریک کے پرتشدد رخ اختیار کرنے کے امکان کے پیش نظر حکام نے کل دوپہر یہ فیصلہ کیا۔ ڈھاکہ یونیور سٹی (ڈی یو) کے شعبہ ابلاغ عامہ اور صحافت کے چیئرمین پروفیسر ابو المنصور احمد نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ پروفیسر منصور نے احتجاجی طلبہ کے سامنے رجسٹرار آفس سے موصول ہونے والا خط پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد طلبہ نے اپنا احتجاج واپس لے لیا۔
اس سے قبل شعبہ ابلاغ عامہ اور صحافت کے طلبہ نے اس الزام کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم پروفیسر کو تفتیشی مدت تک ہر قسم کی تعلیمی سرگرمیوں سے آزاد رکھا جائے۔ پروفیسر منصور نے کہا کہ وہ اس معاملے کو اگلی سنڈیکیٹ میٹنگ میں اٹھائیں گے۔ اتوار کو متاثرہ طالبہ نے وائس چانسلر کو پروفیسر نادر کے خلاف جنسی ہراسانی کی تحریری شکایت کی تھی۔