!’ہیمنت سورین زندہ باد ‘

تاثیر،۵فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

جھارکھنڈ میں سیاسی اُتھل پُتھل کا دور سوموار کو ختم ہو گیا۔ چمپئی سورین کی حکومت نے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا۔ ووٹنگ کے دوران 47 ایم ایل اے جے ایم ایم اتحاد کے حق میں کھڑے ہوئے جبکہ مخالفت میں صرف 29 ووٹ پڑے۔ اسمبلی کے اسپیکر رویندر ناتھ مہتو نے ایوان میں موجود اراکین سے تحریک اعتماد کے حق اور مخالفت میں ایک ایک کرکے اپنی جگہ پر کھڑے ہونے کو کہا۔  زمین گھوٹالے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعہ گرفتار سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین بھی فلور ٹیسٹ میں حصہ لینے اسمبلی پہنچے۔  خصوصی عدالت نے ہیمنت سورین کو وشواس مت میں شرکت کی اجازت دی۔
جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ  چمپئی سورین نے اپنی حکومت کے فلور ٹیسٹ سے پہلے ریاستی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں ہیمنت سورین کا پارٹ 2 ہوں۔ اگر ہیمنت بابو ہیں تو ان میں ہمت ہے۔ ایک سازش کے تحت جھارکھنڈ کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 2019 میںہیمنت سورین کی قیادت میں مینڈیٹ ملا اور حکومت بنی۔ ہیمنت سورین کی حکومت میں کورونا وبا کے دوران ریاست کے لوگوں کو طبی امداد کی کمی یا فاقہ کشی کا شکار نہیں ہونے دیا گیا۔ ہیمنت سورین کی حکومت نے لاک ڈاؤن کے دوران کسی بھی مہاجر مزدور کو تکلیف نہیں ہونے دی۔ انہیں اپنے وطن واپس لانے کے لیے ہر ضروری اقدام کئے۔جہاز، ٹرین یا بس ساری سہولتیں مہیا کرائیں۔ملک پر حکومت کرنے والی مرکزی حکومت نے مرکزی ایجنسی کا غلط استعمال کیا ہے۔جب بھی یہاں کی قبائلی قیادت اپنی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے تو اس قیادت کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس بار بھی کچھ ایسا ہی کیا جا رہا ہے، لیکن ہم دبنے والے نہیں ہیں۔ میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں ہیمنت سورین کا پارٹ ۔2  ہوں۔ اگر ہیمنت بابو ہیں تو ان میں ہمت ہے۔پچھلے کئی سالوں سے ہیمنت حکومت نے لوگوں کی ترقی کے لیے کام کیا ہے۔ ہمارا کام ترقی کو جاری رکھنا اور جھارکھنڈ کو بدعنوانی سے پاک اور خوشحال بنانا ہے۔
  اس سے قبل جب سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین ایوان میں پہنچے تو حکمراں جماعت کے ایم ایل ایز نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور تقریباً پانچ منٹ تک ’’ہیمنت سورین زندہ باد‘‘ اور ’’ہمارا لیڈر کیسا ہونا چاہئے، ہیمنت سورین جیسا ہونا چاہئے‘‘ کے نعرے لگائے۔
چمپئی سورین کی حکومت کے فلور ٹسٹ کے موقع پر سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے بھی جم کر بی جے پی کو نشانہ بنایا۔انھوں نے کہا کہ ان کی گرفتاری سماج میں کئی طریقوں سے قبائلیوں اور دلتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی ایک مثال ہے۔ اگر آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو قبائلیوں، پسماندہ طبقات، دلتوں اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ظلم مختلف شکلوں میں سامنے آئے ہیں۔ 31 جنوری اس ظلم کی ایک مثال ہے۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتی کہ مرکز میں قبائلیوں اور دلتوں کے تئیں اتنی نفرت کیوں ہے۔ وہ یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ ہمیں صرف جنگلوں میں رہنا چاہیے۔ اگر ہم جنگل سے نکلیں گے تو ان کی قبریں گندی ہو جائیں گی۔  وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اچھوت ہیں۔ سی ایم چمپئی سورین نے تحریک اعتماد پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مرکز ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ ہیمنت سورین کی حمایت کرتے ہوئے، سی ایم نے کہا کہ جو ہیمنت سورین کو 2019 میں مینڈیٹ ملا تھا۔ وزیر اعلیٰ کو زمین گھوٹالہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی کی ’’بھارت جوڑو نیا ئےیاترا‘‘ کے دوران ان دنوں جھارکھنڈ میں ہی ہیں۔ جھارکھنڈ میں سیاسی بحران کے درمیان ہی راہل گاندھی ریاست میں داخل ہوئے۔ ان کا قافلہ پاکڑ، دیوگھر، دھنباد اور بوکارو سے ہوتا ہوا دارالحکومت رانچی پہنچا ہے۔’’ راہل گاندھی بھارت جوڑو نیا ئےیاترا‘‘ کے حصہ کے طور پر رانچی کے شہید میدان پہنچے۔ اسٹیج پر کانگریس قائدین کے علاوہ سی پی آئی قائدین بھی موجود تھے۔ سٹیج پر جے رام رمیش اور کنہیا کمار بھی تھے۔ دریں اثنا، چمپئی سورین کی حکومت نے اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کر دی۔ اس وقت راہل گاندھی ایچ ای سی کمپلیکس، رانچی کے تاریخی شہید میدان میں منعقد ایک  جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ انھوں نے مخلوط حکومت کو مبارکباد دی ہے۔ انھوںنے بھی بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت پبلک سیکٹر اڈانی کو دینا چاہتی ہے۔ریزرویشن کو ختم کر دینے کے درپے ہے۔یہ سماجی ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے جھارکھنڈ میں ہماری حکومت کو گرانے کی کوشش کی، لیکن جے ایم ایم اور کانگریس مضبوطی سے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ ہماری حکومت نہیں گرا سکے۔اکثریت ثابت ہونے کے کچھ دیر بعد سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی اہلیہ کلپنا سورین سے راہل گاندھی نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور جے ایم یم ،کانگریس،آر جے ڈی،سی پی آئی (ایم ایل) اتحاد کے ذریعہ اسمبلی کے فلور پر بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو عبرتناک شکست دینے کے لئے مبارکباد دی۔دوسری جانب سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ’’جھارکھنڈ میں بھی کھیلا ہوگا‘‘ کا فارمولہ ناکام ہونے کے بعد بی جے پی خیمہ میںسنّاٹے کا پسرنا فطری ہے۔چاروں طرف بس سی ایم چمپئی سورین کا یہ نعرہ ہی سنائی دے رہاہے ’ ’  ہیمنت سورین زندہ باد  ‘‘