تاثیر،۱۳مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ایک قوم ایک قانون کے فارمولے تحت ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی سگبگاہٹ کی بازگشت کے درمیان، لوک سبھا انتخابات کے ٹھیک پہلے مرکزی حکومت نے11مارچ، سوموار، شام 6 بجے شہریت ترمیمی قانون یعنی سٹیزن شپ امنڈمنٹ ایکٹ (سی اے اے) کے ضوابط سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر کے متعلقہ قانون ملک میں نافذ کر دیا ہے ۔ اس قانون کے تحت 31 دسمبر، 2014 سے پہلے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھارت آ ئے ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی برادریوں کو شہریت دی جائے گی۔ اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ٹویٹر پر لکھا ، ’’مودی حکومت نے شہریت (ترمیمی) رولز ,2024 کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جو پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہبی ظلم و ستم کی وجہ سے بھارت آنے والی اقلیتوں کو شہریت دے گا۔‘‘ انہوں نے لکھا ہے، ’’اس نوٹیفکیشن کے ذریعے، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ایک اور وعدہ پورا کیا ہے۔‘‘
شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کے بعد ملک کے مختلف مقامات میں رہ رہے لوگوں نے اپنے گھروں کے باہر چراغاں کرکے، مٹھائیاں تقسیم کرکے اور پٹاخے پھوڑ کر مرکزی حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ ڈھول بجا کر ناچنا شروع کیا۔ کچھ لوگوں نے میڈیا کے نمائندو ں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’ آج ہم بھارت میں تیسری دیوالی منا رہے ہیں۔ رام مندر میں رام للا کو مورتی میں پران پرتشٹھا کے بعد آج ہم محسوس کر رہے ہیں کہ ملک میں رام راجیہ نافذ ہو گیا ہے۔کچھ لوگوں کا کہنا تھا’’ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی جو کہتے ہیں، وہ کرتے ہیں۔مودی جی کی گارنٹی یہاں بھی پاس ہوئی ہے۔ سی اے اے کے نفاذ کے بعد ہمارے بچوں کا مستقبل سنور جائے گا۔ ورنہ ہمارے پڑھے لکھے بچے پتھر کی کانوں میں کام کرتے ہیں۔ ہمارے بچے بھی تعلیم حاصل کریں گے۔ ہمارے لئے سی اے اے کا نفاذ ایک نئی زندگی کی طرح ہے۔ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے ہمارے درد کو سمجھا ہے اور ہمیں بے پناہ خوشی دی ہے۔پاکستان سے آئے کچھ لوگوں کا کہنا تھا ’’ ملک کی تقسیم کے وقت بہت سے ہندو خاندان پاکستان میں مقیم تھے۔ پاکستان میں ہندو خاندانوں کو ہراساں کرنے کے واقعات بڑھنے لگے۔ بہنیں اور بیٹیاں محفوظ نہیں رہ گئیں۔ ہم اپنا بھائی سمجھ کر بھارت چلے آئے۔ ہمارے پاس آدھار کارڈ نہیں تھا۔ شہریت کی دستاویز نہیں ہونے کی وجہ سے ہمیں کسی قسم کی سہولت نہیں مل رہی تھی۔ اب شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کے بعد ہمیں تمام سہولیات ملیں گی۔
مگر دوسری طرف اس قانون کو لیکر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ جمہوری نظام پر مبنی ملک کے سیکولر اور سماجی و ثقافتی تنوع سے ہم آہنگ آئین کی وکالت کرنے والوں میں شدید ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے ٹھیک پہلے اس قانون کے نفاذ کو تمام اپوزیشن جماعتیں اس قانون کو ہندو ووٹوں کے پولرائیزیشن کی کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تو صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ ہم شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کریں گے۔ اگر ملک میں گروہوں کے درمیان تفریق ہو گی تو ہم خاموش نہیں رہیں گی۔ سی اے اے اور این آر سی مغربی بنگال اور شمال مشرق کے لئے حساس مسائل ہیں اور وہ نہیں چاہتی کہ لوک سبھا انتخابات سے پہلے ملک میں بدامنی پھیلے۔ اگر آپ میں ہمت ہوتی تو آپ سی اے اے کو پہلے ہی نافذ کر دیتے، انتخابات کے موقع پر کیوں؟ میں کسی کو شہریت سے محروم نہیں ہونے دوں گی۔‘‘ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے بھی اس قانون کے نفاذ کے وقت کو لیکر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ شہریت ایکٹ، 1955 بھارتی شہریت سے متعلق ایک جامع قانون ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کسی شخص کو بھارتی شہریت کیسے دی جا سکتی ہے اور بھارتی شہری ہونے کے لئے ضروری شرائط کیا ہیں۔ اس ایکٹ میں پہلے بھی کئی بار ترمیم کی جا چکی ہے۔ ایک بار 2019 میں، مرکز کی بی جے پی حکومت نے اس قانون میں ترمیم کے لئے ایک بل لایا تھا، جسے شہریت (ترمیمی) بل، 2019 کا نام دیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد جب اس بل کو صدر کی منظوری مل گئی تو یہ قانون بن گیا۔ اب پڑوسی ممالک( افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان) سے مسلمانوں کو چھوڑ کر 31 دسمبر، 2014 یا اس سے پہلے بھارت آئے لوگ شہریت حاصل کر سکیں گے۔ شہریت (ترمیمی) ایکٹ، 2019 سے پہلے، کسی بھی شخص کے لئے بھارتی شہریت حاصل کرنے کے لیے کم از کم 11 سال بھارت میں رہنا لازمی تھا، لیکن اب یہ مدت 6 سال کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہونے والے افراد کو شہریت نہیں مل سکتی تھی اور انہیں ان کے ملک واپس بھیجنے یا حراست میں رکھنے کا انتظام تھا لیکن اب ایسے لوگ شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019 کے تحت نظر آئیں گے۔
بی جے پی نے سب سے پہلے 2016 میں شہریت قانون میں ترمیم کے لئے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا تھا۔ اس وقت یہ بل صرف لوک سبھا سے پاس ہو پایا تھا۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی بی جے پی نے ملک میں شہریت ترمیمی قانون کو نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تب بی جے پی نے کہا تھا کہ پڑوسی مسلم ممالک میں ہندوؤں اور سکھوں جیسی مذہبی اقلیتوں پر ظلم کیا جاتا ہے اور اگر وہ حکومت میں آتی ہے تو اس قانون پر تیزی سے کام کیا جائے گا۔ مرکز میں دوسری بار حکومت بنانے کے بعد، وزیر داخلہ امیت شاہ نے 9 دسمبر، 2019 کو لوک سبھا میں شہریت (ترمیمی) بل، 2019 پیش کیا، جہاں 311 اراکین پارلیمنٹ نے بل کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اسے 11 دسمبر کو راجیہ سبھا نے پاس کیا اور اگلے ہی دن 12 دسمبر کو صدر نے اسے منظور کر لیا، لیکن ملک کے کئی حصوں میں اس کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔ شمال مشرقی ہندوستان سمیت شمالی ہندوستان میں مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ دہلی میں اس کے خلاف مظاہروں کے دوران مشرقی دہلی میں بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ،جن میں 50 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ مسلم کمیونٹی میں خوف ہے کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) لایا جائے گا ،جس سے ان کی شہریت کو خطرہ ہو گا۔ایسے میں فی الحال مرکزی حکومت کی ٹیگ لائن ’’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس‘‘ پر ایک سوالیہ نشان لگتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا !
********

