بیگوسرائے میں سی پی ایم لیڈر سمیت 200 کارکنوں کے خلاف ایف آئی آردرج

تاثیر،۱۸مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

پٹنہ، 18 مارچ: لوک سبھا انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی ملک بھر میں ماڈل ضابطہ اخلاق نافذ ہو گیا۔ اس کو لیکر الیکشن کمیشن کے سخت قوانین ہیں۔ اس کے باوجود سیاسی جماعتیں اور رہنما اس کی خلاف ورزی کے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ بہار کے بیگوسرائے میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا پہلا معاملہ سامنے ا?یا ہے۔ دو لیڈروں سمیت 200 سی پی ا?ئی (ایم) کارکنوں کے خلاف ایف ا?ئی ا?ر درج کی گئی ہے۔
سی پی ایم کا الزام ہے کہ بھگوان پور بلاک کے سوریہ پورہ گاو?ں میں واقع درگا مندر کمپلیکس میں انتظامیہ کی اجازت کے بغیر میٹنگ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں رہنماو?ں اور کارکنوں نے پارٹی پرچم اور بینر کے ساتھ جلسہ عام کیا۔ اس وجہ سے سی پی ا?ئی (ایم) کے رہنماو?ں اور کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
دراصل لوک سبھا انتخابات کے اعلان کے بعد انتظامیہ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کو لے کر ایک فلائنگ اسکواڈ ٹیم تشکیل دی ہے جو تمام جگہوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس کے تحت بھگوان پور بلاک کے انچارج بی ای او سنیل کمار علاقے کے دورے پر گئے تھے۔ جہاں سی پی ا?ئی (ایم) کی میٹنگ چل رہی تھی۔
سنیل کمار رائے کی تحریری شکایت پر سی پی ا?ئی ایم لیڈر رام بھجن سنگھ اور رتنیش جھا سمیت 200 لوگوں کے خلاف ایف ا?ئی ا?ر درج کی گئی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ سوریہ پورہ گاو?ں میں واقع درگا مندر کمپلیکس میں میٹنگ کے لیے سی پی ا?ئی (ایم) سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔ سینکڑوں کارکن وہاں موجود تھے حالانکہ پنڈال نہیں بنایا گیا تھا۔ لاو?ڈ اسپیکر کے ذریعے تقریر ہو رہی تھی۔