!………تو ووٹ خود بخود بر سیں گے

تاثیر،۱۷مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

لوک سبھا انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ اس بار بھی ملک کی 543 پارلیمانی نشستوں کے لیے سات مرحلوں میں ووٹنگ ہوگی۔ انتخابات 19 اپریل سے شروع ہو کر یکم جون تک جاری رہیں گے۔ ووٹوں کی گنتی 4 جون کو ہوگی۔ظاہر ہے ووٹنگ سے پہلے تک بی جے پی، کانگریس اور دیگر علاقائی پارٹیاں مختلف مسائل کے حوالے سے ایک دوسرے پر خوب حملے کریں گی۔ان حملوں میں سب کے اپنے اپنے ترکش اور اپنے اپنے تیر ہوں گے۔ ایسے میں دیکھا جائے تو بی جے پی رام مندر اور شہریت ترمیمی قانون جیسے ایشوز کی بنیاد پر فائدہ اٹھانے کی زوردار مہم چلا سکتی ہے۔ ساتھ ہی اپوزیشن مہنگائی اوربے روزگاری کے ساتھ ساتھ ای ڈی، سی بی آئی جیسی مرکزی ایجنسیوں کے غلط استعمال سمیت دیگر مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرے گی۔انتخابی میدان میں بر سر اقتدار اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جو جنگ ہوگی ، یقینی طور پر وہ دیکھنے کے لائق ہوگی۔

مانا جا رہا ہے کہ رام مندر کی تعمیر اور اس میں رام للاکی مورتی میں پران پرتشٹھا ، بی جے پی کی’’ پرتشٹھا‘‘ کو بچانے میں اہم رول ادا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ شہریت ترمیمی قانون، گیانواپی مسجد کے اندر پوجا کا آغاز، دیگر کئی مسجدوں اور مدرسوں پر دزدیدہ نظر، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور پورے ملک میںسناتنی ثقافت کے احیاء کی پر زور کوشش۔ اس طرح سے ووٹوں کے پولرائیزیشن کے ذریعہ بی جے پی مسلسل تیسر ی بار بر سر اقتدار آ سکتی ہے۔بی جے پی کو یقین ہے کہ ہندوؤں کی متحدہ طاقت اور ذات پات کی بنا پر اپوزیشن کے ذریعہ کرائی گئی مردم شماری پر بھاری پڑے گی۔اِدھر سی اے اے قوانین کو بھی پورے ملک میں نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس پر سیاست بھی شروع ہو گئی ہے۔ خاص طور پر بنگال اور آسام کے سرحدی علاقوں میں ہونے والے انتخابات پر اس کا اثر ضرور پڑے گا۔دوسری جگہوں پر، سی اے اے کا اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ بی جے پی اسے ہندو جذبات ابھارنےکے لئے کتنا استعمال کرتی ہے۔ اسی طرح ای ڈی اورسی بی آئی کے استعمال کا بھی معاملہ ہے۔بی جے پی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اپوزیشن لیڈر بدعنوان ہیں اور اس لئے یہ درست ہے کہ وہ سی بی آئی /ای ڈی کے رڈار پر ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ بی جے پی کی انتقامی سیاست ہے۔ اس کہا سنی کا لوک سبھا انتخابات پر کیا اثرات مرتب ہوں گےیہ تو ابھی نہیں کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ طے ہے کہ دونوں طرف سے بیان بازی ہوگی اور اس کا فائدہ شاید بی جے پی کو ہی ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کارو ں کا ماننا ہے پی ایم مودی نے دوسروں کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔2004 میں، اٹل بہاری واجپائی نے ڈی ایم کے اور رام ولاس پاسوان کو دور کردیا تھا، جس کی انھیں قیمت بھی چکانی پڑی۔ مودی کا انداز ان سے بالکل الگ ہے۔ آنے والے انتخابات کے پہلے وہ اپنے بچھڑے ہوئے ساتھیوں کو ملانے کی کوشش کرتے آ رہے ہیں۔تمام تر نا مساعد حالات کے باوجود نتیش کمار اور دوسرے کئی لیڈروں کو انھوں نے گلے لگایا ہے۔بی جے ڈی کے ساتھ بات چیت ابھی جاری ہے۔ دوسری طرف ایسا لگ رہا ہے کہ اتر پردیش، دہلی، تامل ناڈو، بہار، مہاراشٹر میں سیٹوں کی تقسیم کے باوجود اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ منظم نہیں ہے۔ مہنگائی کے معاملے میں بھی نریندر مودی اپنے پیشروؤں سے زیادہ محتاط ہیں۔ انہوں نے خوردہ ایندھن کی قیمتوں کو مہینوں تک مستحکم رکھا، پھر تین دن پہلے قیمتیں کم کر دیں۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔ خوراک کی برآمدات پر ایک سے زائد بار پابندی لگا ئی گئی۔ 80 کروڑ بھارتیوں کو مفت اناج دیا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کی تنقید کی انھوں نے کبھی پرواہ نہیں کی۔ اشیائے خوردونوش کی مہنگائی کی کچھ شکلیں باقی ہیں، لیکن چند کو چھوڑ کر، کسی میں بھی اتنا دم نہیں ہے کہ وہ قومی مسئلہ بن سکے۔ اسی طرح ممکنہ طور پر اپوزیشن کا سب سے طاقتور ملازمت کا مسئلہ ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن کی تمام تر کوششوں کے باوجود اپنے ملک میں ملازمت کبھی بھی کوئی سنجیدہ ایشو نہیں بن سکی ہے۔رہی بات سماجی بہبودکی تو یہ سب کو معلوم ہے ملک کے ہر ایک ضرورتمند کو اس کا فائدہ مل رہا ہے۔ جہاں تک سوال ہے کہ ووٹرز کی حمایت کس پارٹی کو ملے گی ؟ تو اس کا جواب ہے کہ وزیر اعظم مودی نے اس میں مہارت حاصل کر لی ہے۔عوامی فلاح و بہبود کے معاملے میں، وہ اب تک زیادہ تر جگہوں پر کانگریس اور علاقائی پارٹیوں کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ حالانکہ کانگریس اور علاقائی پارٹیاں بھی اپنی اپنی حکومت والی ریاستوں میں اپنےوعدوں کی پاسداری کر رہی ہیں، لیکن انتخابی میدان میںدونوں فریق ایک دوسرے کے فلاحی منصوبوں میں خامیاں ضرور تلاش کریں گے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بی جے پی کا تشہیری نظام اپوزیشن سے نسبتاََ بہتر ہے۔ اپوزیشن کو ابھی اس شعبے میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

اقتصادی ماہرین ہمیشہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار کا ووٹنگ کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی توقع کرتے ہیں۔لیکن تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انتخابات کے وقت یا پھر کبھی بھی عام رائے دہندگان کو حکومت کے نظام معیشت سے زیادہ کچھ لینا دینا نہیں رہتا ہے۔ چنانچہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار کے بارے میں ماہرین اقتصادیات کے درمیان شدید بحث، عوامی سطح پر مودی حکومت میں بہت کم اہمیت رکھتی ہے۔ اس لئے اس مدعے پر اپوزیشن کا ہو ہلّا بہت کارگر ثابت نہیں ہوگا۔آخری بات یہ کہ یہ صرف حکومت ہند کی بات نہیں ہے کہ کیسے اس کی پالیسیوں نے عالمی سطح پر اس کے وقار کو مزید بڑھادیا ہے۔مغربی مخالفت کے باوجود روس سے خام تیل خریدنانریندر مودی کی پُرجوش اور ہوشیار سفارت کاری کی ایک اچھی مثال ہے۔ٹھوس معاشی اعداد و شمار ابھرتے ہوئے’’ بھارت‘‘ میں بی جے پی کے لئے سیاسی پچ تیار کرنے میں حد درجہ معاون نظر آ رہے ہیں۔اس کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ترکش میں پتہ نہیں ابھی اور کتنے تیر ہیں، جو دھیرے دھیرے باہر آئیں گے، ان میں چند ایسے وعدوں کے چناوی تیر بھی ہو سکتے ہیں، جن کا ٹھکانہ یقیناََ ووٹروں کے دل ہو سکتے ہیں۔اور جب دل ہی گھائل ہو جائیں گے تو ووٹ خود بخود بر سیں گے۔
****************