تاثیر،۱مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، یکم مارچ:جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں ایک بار پھر تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ الیکشن کمیٹی کے ارکان کے انتخاب کے لیے جمعرات کی شب سکول آف لینگویجز میں جنرل باڈی کا اجلاس جاری تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ میٹنگ کے دوران بائیں بازو نے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے امیدوار کو اسٹیج سے بولنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کی وجہ سے طلباء کے گروپ میں جھگڑا ہوا اور بائیں بازو اور اے بی وی پی سے تعلق رکھنے والے طلباء کے درمیان زبردست لڑائی ہوئی۔ اس واقعہ میں اے بی وی پی اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے ایک دوسرے پر حملہ کا الزام لگایا ہے۔
بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے اسے اے بی وی پی سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی غنڈہ گردی قرار دیا اور کہا کہ اے بی وی پی طلبہ نے ان پر حملہ کیا اور لاٹھیوں سے مارا۔ وہیں اے بی وی پی سے وابستہ طلبہ اسے بائیں بازو کا حملہ قرار دے رہے ہیں۔ اس واقعے سے متعلق کئی ویڈیوز بھی منظر عام پر آچکی ہیں، جن میں طلبہ آپس میں لڑتے نظر آرہے ہیں۔
ڈی سی پی روہت مینا نے کہا کہ ہمیں دونوں پارٹیوں کی طرف سے شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان شکایات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ معلومات کے مطابق اس واقعے میں کئی طلباء زخمی ہوئے ہیں، جنہیں قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ان دنوں جے این یو میں طلبہ یونین کے انتخابات کا عمل جاری ہے، جس کے تحت تمام اسکولوں میں ایک ایک کر کے جنرل باڈی میٹنگ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

