خدا بخش لائبریری میں بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر کتابوں کی نمائش اور لکچر

تاثیر،۹مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

پٹنہ: ۸؍مارچ۲۰۲۴ء: خدا بخش لائبریری میں بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر خواتین سے متعلق مختلف زبانوں میں کتابوں کی نمائش کی گئی اور لکچر کا اہتمام کیا گیا۔ محترمہ انامیکا پریہ درشنی اور محترمہ ناظمی پروین نے اس موقع پر سامعین کو اپنے گراں قدر خیالات سے نوازا۔ ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری نے اپنے افتتاحی کلمات میں فرمایا کہ بین الاقوامی یوم خواتین ہر سال 8 مارچ کو خواتین کے حقوق کی تحریک میں ایک مرکزی نقطہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بین الاقوامی صنفی مساوات، تولیدی حقوق، اور خواتین کے خلاف تشدد اور بدسلوکی جیسے مسائل پر توجہ دیتا ہے۔ بین الاقوامی یوم خواتین 20ویں صدی کے اوائل میں شمالی امریکہ اور یورپ میں مزدور تحریکوں سے شروع ہوا۔سب سے پہلی کوشش 28 فروری 1909 کو نیویارک شہر میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ کے زیر اہتمام “خواتین کا دن” سے ہوئی۔ اس نے 1910 کی بین الاقوامی سوشلسٹ خواتین کی کانفرنس میں جرمن مندوبین کو ہر سال “خواتین کا ایک خصوصی دن” منعقد کرنے کی تجویز پیش کرنے کی ترغیب دی۔ اگرچہ کوئی مقررہ تاریخ نہیں ہے۔ اگلے سال یورپ بھر میں خواتین کے عالمی دن کے پہلے مظاہرے اور یادگاری تقریبات دیکھنے میں آئیں۔ 1917 میں روس کے انقلاب کے بعد 8 مارچ کو بین الاقوامی یوم خواتین کا درجہ دیا گیا۔ بعد ازاں اس تاریخ کو سوشلسٹ تحریک اور کمیونسٹ ممالک نے منایا۔ 1960 کی دہائی کے آخر میں عالمی حقوق نسواں کی تحریک کے ذریعہ اس کو اپنانے تک اس کا تعلق بائیں بازو کی تحریکوں اور حکومتوں سے تھا۔ 1977 میں اقوام متحدہ کی طرف سے اس کی تشہیر کے بعد بین الاقوامی یوم خواتین منایا جانے لگا۔ انھوں نے مزید فرمایا کہ تعلیم انسان کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے جو ہمیں سب سے زیادہ پاور فل بناتا ہے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمیں انسان بھی بننا ہے۔ اگر ہم نے انسانیت کو چھوڑ دیا تو تعلیم بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ نا خواندہ عورت کو دیکھ کردل دُکھتا ہے۔ ہمیں ایسا ماحول بنانا ہوگا جس میں ہر ایک تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکے۔ سماج کی ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ مرد اور عورت دونوں یکساں کام کرتے ہیں لیکن جب مزدوری کی بات آتی ہے تو عورتوں کو کم مزدوری دی جاتی ہے۔ اس ماحول کو ہمیں بدلنا ہوگا۔ حالات سازگار نہ ہونے کے باوجود جو لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، ان کی ہمت بڑھانا چاہئے تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکیں ۔
محترمہ انامیکا پریہ درشنی، سنیئر اسپیشلسٹ ریسرچ نے اپنے خطاب میں مختلف ڈاٹا کی روشنی میں عورتوں کی پسماندگی پر روشنی ڈالی اور ان کی حالت کو کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے، اس کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کیا۔ انھوں نے کہا کہ خاندانی اقتصادیات میں خواتین کی حصہ داری سے زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اگر اقتصادیات کے میدان میں عورتوں کو پوری آزادی دی جائے تو جی ڈی پی میں ستائیس فیصد کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں مردوں اور عورتوں کی حصہ داری کے تناسب میں بہت گیپ ہے۔ ہمیں اس گیپ کو پاٹنا ہوگا۔ کووڈ کے دوران مردوں کے تناسب میں عورتوں کی نوکری زیادہ گئی۔ عورتوں کا بہت سا وقت بلا اجرت کے کاموں میں گزر جاتا ہے۔ عورتوں کو وقت کی بڑی قلت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کو آرام کرنے کا بھی مناسب وقت نہیں مل پاتا ہے۔ وقت کی قلت کے سبب سماج کا تانا بانا بکھر سا جاتا ہے۔ سرکار نے عورتوں کی فلاح و بہبود کے لئے بہت سی سرکاری اسکیمیں چلا رکھی ہے، لیکن اس کے باوجود خاطر خواہ اس کی حالت میں سدھار دیکھنے کو نہیں ملتا۔ اقتصادیات میں عورتوں کی حصہ داری بڑھانی ہوگی۔ عورتوں کو مزدوری میں بھی بھید بھاو کا شکار ہونا پڑتا ہے، عدم مساوات کی اس روایت کو ختم کرنی ہوگی۔ عورتیں جہیز، قتل، اغوا، زنا بالجبر اور گھریلو ہنسا جیسی غیر انسانی حرکتوں کا آئے دن شکار ہوتی رہتی ہیں۔ ان زیادتیوں کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ہمیں نوجوان نسل کی ذہن سازی کرنی ہوگی کہ وہ لڑکیوں کو عزت دیں اور ان کے لئے آواز اٹھائیں۔
محترمہ ناظمی پروین نے بھی سامعین کو خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ عورتیں پیدا نہیں ہوتیں بلکہ سماج کے ذریعہ اسے گڑھا جاتا ہے کہ عورتوں کے کیا کیا فرائض ہیں اور ان کو کون کون سے کام کرنے ہیں۔ اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے اور اس کی ترغیب دینی ہے کہ عورتیں کسی سے کم نہیں ہیں۔ وہ ہر وہ کام کر سکتی ہیں جو مرد کیا کرتے ہیں۔اپنے حقوق کے تئیں عورتوں کو بھی بیدار کرنا ہے اور سرکاری اسکیموں سے انھیں واقف کرانا ہے، اس سلسلے میں پسماندہ مسلم عورتوں کی حالت زیادہ ابتر ہے۔ ہمیں خاص طور پر اس محروم طبقہ پر زیادہ دھیان دینا ہے۔
اس موقع دانشوروں اور طالب علموں نے چند سوالات بھی پوچھے، جن کے تشفی بخش جواب دئے گئے۔