! زبان پر ہمیشہ توبہ و استغفار رہے

تاثیر،۲۱مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

رمضان المبارک ابھی شروع ہی ہوا تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک عشرہ مکمل ہو گیا۔یعنی رحمتوں اور برکتوں کا یہ مہینہ اتنی تیز رفتاری کے ساتھ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہےکہ اب ہم دوسرے عشرے میں داخل ہو چکے ہیں ۔ ویسے تو تمام شب وروز اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہی ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنے بندوں کو نوازنے کے لیے بہانے ڈھونڈتی رہتی ہے۔ اسی لئے اس نے کسی شب کو لیلۃالقدر بنا دیا اور کسی مہینہ کو ماہ مبارک ۔ روایت ہے کہ رمضان المبارک کا پہلا حصہ رحمت ہے، دوسرا حصہ مغفرت ہے اور تیسرا حصہ جہنم سے آزادی کا پروانہ ہے۔ اس طرح پہلا عشرہ رحمت کے بعد اب یہ دوسرا عشرہ مغفرت کا، ہم پر سایہ فگن ہو چکا ہے۔
مذکورہ دنوں اور عشروں کی تقسیم اپنی جگہ، لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ پورا ماہ رمضان المبارک رحمت و مغفرت اور جہنم سے آزادی کا پروانہ لے کر آتا ہے۔ اب یہ انسان کی اپنی کوشش ہے کہ وہ اس ماہ مبارک سے کتنا فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنے آپ کو کس طرح رحمت و مغفرت کے مستحق بناتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں عبادات کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔فرائض کا ثواب 70 گنا ہو جاتا ہے۔ نوافل کا ثواب فرائض کے برابر ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ صدقات و عطیات کا بھی ہے۔ ان کے ثواب میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ چوں کہ اس ماہ مبارک میں شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں، اس لئے اچھے اعمال کا راستہ بڑی آسانی کے ساتھ ہموار ہوجاتاہے۔
ماہ مبارک کے عشرہ مغفرت کا ایک تقاضہ تو یہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفار کریں۔ استغفار خود ایک عبادت ہے اور احکم الحاکمین سے اپنے گناہوں کی معافی کے لیے درخواست بھی۔استغفار سے انسان کے اندر تکبر کا مادہ ختم ہوتاہے۔ نامہ اعمال میں بھی استغفار ایک قیمتی اضافہ ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جس شخص کے نامہ اعمال میں استغفار کی کثرت ہو، اس کے لئے بڑی خوش بختی کی بات ہے۔استغفار آخرت کے اعتبار سے تو بڑی فضیلت کی بات ہے اور استغفار کرنے والے کے لئے نہایت قیمتی خزانہ بھی، لیکن اللہ رب العزت نے دنیا میں بھی استغفار میں بڑی فضیلت رکھی ہے۔ قرآن مجید میں استغفار کے فوائد میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب تک لوگ استغفار کرتے رہیں گے اس وقت تک وہ عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ (الانفال:3) گویا استغفار کی کثرت سے اللہ تعالیٰ دنیائے انسانیت کو عذاب کے ساتھ ساتھ بلاؤں سے اور وباؤں سے محفوظ رکھے گا۔قرآن مجید میں یہ بھی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی فوج سے کہا کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو۔ وہ بہت مغفرت کرنے والا ہے۔ وہ تم پر بکثرت بارش برسائے گا، مال اور اولاد سے تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے لیے باغ بنائے گا اور تمھارے لیے نہریں جاری کرے گا۔ (النوح: 12-10)
قرآن مجید کی مذکورہ آیات کریمہ میں اور دیگر آیات میں بھی یہ بہت واضح طور پرآیا ہے کہ استغفار کی برکت سے انسان کے تمام دنیاوی مسائل حل ہو جا تے ہیں۔اللہ تعالی اس کو فقر اور محتاجی سے بچا تا ہے۔اس کو مال و دولت بھی د یتا ہے اوراس کو دنیا میں قوت و شوکت بھی عطا فر تاہے۔احادیث میں بھی استغفار کے فضائل بڑی کثرت سےآئے ہیں۔ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جو شخص استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ہر رنج و غم سے نجات دیتا ہے ساتھ ہی اس کو ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی عطا کرتا ہے، جہاں سے اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ (ابن ماجہ)
اس عشرۂ مغفرت کا دوسرا تقاضہ یہ ہے کہ ہم جس چیز کی امید اللہ رب العزت سے اپنے لئے کرتے ہیں، وہی کام ہم اپنے طور پر اس کی مخلوق کے لئےبھی کریں۔ یعنی اپنے دل سے کینہ، حسد اور انتقام کے تمام جذبوں کو نکال باہر کریں۔ اگر کسی نے ہمارا حق مارا ہے، ہمارے ساتھ نازیبا حرکت کی ہے، ہم کو اپنی زبان سے یا اپنے عمل سے کوئی تکلیف پہنچائی ہے تو ہم یکطرفہ طور پر اس کو معاف کر دیں۔ ساتھ ہی اپنے دل کی گہرائیوں میں جھانکیں،جس کسی شخص سے بھی کوئی عداوت کا جذبہ یا اس کی شبیہ بھی موجود ہو تو اس کا نام لے کر اس کو معاف کر دیں۔ اگر بذریعہ فون رابطہ ہو سکتا ہے تو اس سے بات کریں تاکہ دل پوری طرح سے پاک و صاف ہو جائے۔ اس عشرے میں مسلسل یہ مشق ہوتی رہے کہ اپنے دل میں ہر ایک کے لئے محبت ہو اورنفرت جیسے منفی جذبات ہم سے کوسوں دور رہیں۔آج کا دور بڑا عجب دور ہے۔ اس میں دکھ بڑھ رہے ہیں، نفرتیں بڑھ رہی ہیں، عداوتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس ماہ مبارک کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے طور پر محبتیں بڑھائیں اور الفتیں بڑھائیں ، سب میںپیار بانٹیں۔ انشاء اللہ ماہ مبارک کی برکت سے ہم کو وہ ملے گا، جسے ہم بانٹتے رہیں، لیکن وہ کبھی کم نہیں ہوگا۔ قرآن مجید میں ہے کہ بری بات کو بھی بھلی بات سے دفع کرو۔ یعنی دوسروں کی بات کے جواب میں بھلی بات کی جائے۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ جس آدمی کو ہم سے شدید نفرت ہوگی، وہ بھی ہمارا جگری دوست بن جائے گا۔لہٰذا، رمضان المبارک کے اس دوسرے عشرے میں ہم کو یہ دو کام توضرور کرنے چاہئیں، ایک یہ کہ زیادہ سے زیادہ استغفار کریں اور دوسرایہ کہ دوسروں سے ملی تلخیوں کو در گزر کریں اور عفو و درگزر سے کام لیں۔ ساتھ ہی ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ لاشعوری طور پر بھی ہم سے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں ہو۔رمضان المبارک کے اس عشرہ مبارکہ کو ہم اس طرح آباد کریں کہ ہماری زبان پر ہمیشہ توبہ و استغفار رہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک کے تمام تر تقاضوں کے مطابق صدق دل سے عمل کرنے کی توقیق عطا فرمائے !