کھونٹی (ریزرو) پارلیمانی نشست پر بڑھتی جا رہی ہے انتخابی تپش

تاثیر،۱۶مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

کھونٹی، 16 مارچ :۔ لوک سبھا انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمیاں بڑھنے لگی ہیں۔ تمام پارٹیاں عوام کو راغب کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔قبائلیوں کے لیے مختص کھونٹی پارلیمانی حلقہ میں بی جے پی سب سے زیادہ سرگرم نظر آرہی ہے، جب کہ کانگریس کے ذریعہ اب تک اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کئے جانے کی وجہ سے پارٹی کارکنان مایوس ہیں۔ شہر سے گاوں تک سیاسی بحث کا بازار گرم ہے۔ سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کے لیے حکمت عملی بنانا شروع کر دی ہے۔ انتخابی معرکہ آرائی کے حوالے سے لوگ بی جے پی اور کانگریس کی جیت اور ہار کے مساوات کی پیشن گوئی کرنے لگے ہیں۔

ارجن منڈا کے خلاف کانگریس کا امیدوار کون ہوگا؟

جمہوریت کے عظیم تہوار کا بگل بجتے ہی جہاں ایک طرف بی جے پی نے زمینی سطح سے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں وہیں دوسری طرف کانگریس کی جانب سے ابھی تک اپنے امیدوار کا اعلان نہ کرنے کی وجہ سے کارکنوں میں تذبذب کی کیفیت ہے۔ ضلع کانگریس کے ایک سینئر کارکن کا کہنا ہے کہ اگر امیدوار کا پہلے سے اعلان کر دیا جاتا تو کارکنان انتخابی مہم شروع کر دیتے، جیسا کہبی جے پی نے کیا ۔ پارٹی نے پہلے ہی امیدوار کا اعلان کر دیا اور کارکنوں نے انتخابی مہم کی حکمت عملی تیار کرنا شروع کر دی۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگریس کے ٹکٹ کے سب سے نمایاں دعویداروں میں سابق ایم ایل اے اور کھونٹی پارلیمانی سیٹ سے تین بار قسمت آزما چکے کالی چرن منڈا اور نقل مکانی مخالف تحریک کے لیڈر دیامنی بارلا شامل ہیں۔ تاہم پربھاکر ترکی اور سابق ریاستی کانگریس صدر پردیپ بلموچو بھی ٹکٹ کی دوڑ میں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس کا ٹکٹ دیامنی بارلا کو دیا جاتا ہے تو بی جے پی کے ارجن منڈا کے لیے مقابلہ آسان ہوسکتا ہے، وہیں کالی چرن منڈا کو ٹکٹ ملنے کی صورت میں 2019 کے لوک سبھا انتخابات کی طرح اس بار بھی مقابلہ سخت ہوگا۔ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ارجن منڈا قریبی مقابلہ میں صرف 1445 ووٹوں کے فرق سے جیت کر پارلیمنٹ میں پہنچے تھے۔

کڑیا منڈا کے نام سب سے زیادہ پارلیمانی انتخابات لڑنے اور جیتنے کا ریکارڈ ہے

کھونٹی پارلیمانی سیٹ سے سب سے زیادہ الیکشن لڑنے اور جیتنے کا ریکارڈ پدم بھوشن کڑیا منڈا کے نام ہے جنہوں نے 12 بار لوک سبھا انتخابات میں قسمت آزمائی اور آٹھ بار کامیابی حاصل کی۔ بی جے پی کے کڑیا منڈا نے پہلی بار 1971 میں بھارتیہ جن سنگھ کے ٹکٹ پر پارلیمانی سیٹ پر انتخاب لڑا تھا، لیکن انہیں جھارکھنڈ پارٹی کے این ای ہورو نے شکست دی تھی۔ 1977 میں کڑیا منڈا جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر جیت درج کی ، لیکن 1980 میں وہ جھارکھنڈ پارٹی کے این ای ہورو سے ہار گئے۔ 1984 کی اندرا لہر کے دوران کانگریس کے سائمن تگاایہاں سے لوک سبھا پہنچے تھے۔ بعد میں، کڑیا منڈا نے مسلسل 1989، 1991، 1996، 1998 اور 1999 میں کامیابی حاصل کی۔
2004 میں کانگریس کی سشیلا کیرکیٹا نے کڑیا منڈا کی جیت کے رتھ کو روکا۔ کڑیا منڈا نے 2009 اور 2014 میں کھونٹی پارلیمانی حلقہ میں ایک بار پھر بی جے پی کا جھنڈا لہرایا۔ اگرچہ کھونٹی کو جھارکھنڈ پارٹی کی ر وایتی سیٹ سمجھا جاتا تھا، لیکن این ای ہورو کی موت اور جھارکھنڈ پارٹی کی حمایت میں کمی کے بعد، بی جے پی نے اس سیٹ پر اپنا تسلط قائم کیا۔ 2019 میں بی جے پی نے کڑیا منڈا کی جگہ ارجن منڈا کو میدان میں اتارا اور اس نے کڑیا منڈا کا سیاسی قلعہ بھی برقرار رکھا۔ کھونٹی سیٹ سے سب سے پہلا پارلیمانی الیکشن 1962 میں ہوا تھا۔ جھارکھنڈ پارٹی کے جے پال سنگھ منڈا نے 1962 اور 1967 میں یہ سیٹ جیتی تھی۔ اس پارٹی کے این ای ہورو 1971 کے عام انتخابات میں پارلیمنٹ پہنچے تھے۔