تاثیر،۱۳ اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن،13اپریل:یکم اپریل کو دمشق میں تہران کے قونصل خانے کو نشانہ بنانے پر ممکنہ ایرانی ردعمل کے امکانات میں امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے سے باز رہے۔خیال رہے کہ دمشق میں اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کے سینیر افسران کی ہلاکت کے بعد ایران نے اس حملے کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا مگر فی الحال ایران کی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی گئی البتہ ایرانی قیادت کی طرف سے تل ابیب کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
جمعہ کو جب صحافیوں نے صدربائیڈن سے ایران کے لیے ان کے پیغام کے بارے میں پوچھا تو بائیڈن نے کہا کہ “میں ایرانیوں سے کہتا ہوں کہ وہ ایسا نہ کریں”۔ رائیٹرز کے مطابق انہوں نے اسرائیل کے دفاع کے لیے واشنگٹن کے عزم پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہاکہ “ہم اسرائیل کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم اسرائیل کی حمایت کریں گے۔ ہم اسرائیل کے دفاع میں مدد کریں گے اور ایران کامیاب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ معلومات کو ظاہر نہیں کریں گے، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ایران کی طرف سے”جلد” حملہ ہوگا۔اس سے قبل جمعے کو وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے متوقع حملہ ایک حقیقی خطرہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ خطے میں اپنی طاقت کی پوزیشن کو تہران کے خطرے کی روشنی میں دیکھ رہا ہے اور صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔قابل ذکر ہے کہ یکم اپریل کو ایرانی پاسداران انقلاب نے شام اور لبنان میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر محمد رضا زاہدی اور ان کے نائب محمد ہادی رحیمی سمیت سات سینئر اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہیں دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے میں ہلاک کیا گیا۔جنوری 2020ء میں بغداد کے ہوائی اڈے کے آس پاس میں قدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد سے یہ حملہ تہران کے لیے ایک دردناک دھچکا اور شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔اس واقعے کے بعد ایران کی سینیر لیڈرشپ نے بار بار اسرائیل کو اس حملے پر سبق سکھانے کی دھمکیاں دی ہیں۔

