ایران میں عسکریت پسندی: ‘تہران کی پالیسیاں خطے کے لیے مسئلہ ہیں

تاثیر،۱۰       اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

اسلام آباد ،09اپریل :ایران کے خبر رساں ادارے (ارنا) نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے عیدالفطر پر دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے جنگجوو?ں کو گرفتار کر لیا ہے۔ارنا کے مطابق پولیس نے یہ کارروائی ایران کے شہر کرج میں کی ہے جب کہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے بھی اس پیش رفت کو رپورٹ کیا ہے۔پریس ٹی وی نے پولیس ترجمان جنرل سعید المنتظر مہدی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ البروز میں پولیس نے داعش کے تین ارکان کو گرفتار کیا ہے جو عید کے موقع پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
داعش کے مبینہ دہشت گردوں کی گرفتاری کا دعویٰ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب رواں ماہ کے اوائل میں ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے ساحلی شہر چاہ بہار، راسک اور سرباز میں سیکیورٹی تنصیبات پر حملے ہوئے تھے۔ایران میں میڈیا پر پابندیوں کے باعث اب تک ان حملوں سے متعلق آزادانہ خبر دنیا تک نہیں پہنچی۔ البتہ سرکاری بیان میں نقصانات کے حوالے سے جاری کردہ ایک محدود بیان بتایا گیا تھا کہ ان حملوں کی ذمہ داری ایران میں موجود سنی عسکریت پسند تنظیم ‘ جیش العدل’ نے قبول کی ہے۔واضح رہے کہ رواں برس کے اوائل میں ایران کے شہر کرمان میں پاسدارانِ انقلاب کے رہنما قاسم سلیمانی کی یاد میں منعقدہ ایک سرکاری اجتماع کے دوران خودکش حملوں میں 90 سے زائد افراد ہلاک 250 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ایران کی حالیہ تاریخ میں دہشت گردی کا یہ سب سے بڑا واقعہ تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔نیولائنز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ سینئر ڈائریکٹر، محقق اور مصنف کامران بخاری مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیاء میں بدلتی صورتِ حال کو انتہائی قریب سے دیکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شام میں داعش کی شکست کے بعد داعش کے جنگجو افغانستان اور پاکستان پر مشتمل اس خطے میں منتقل ہو چکے ہیں۔کامران بخاری عالمی سطح پر ایران کے کردار کے تناظر میں ایران میں رونما ہونے والے واقعات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اس حوالے سے ایک تحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے۔جیوپولیٹیکل فیوچر کے لیے اپنی حالیہ تحریر ”جہادی عناصرامریکہ، روس اور ایران کشیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے” میں لکھتے ہیں۔”یہ مان لینا چاہیے کہ داعش خراسان نا صرف ایران اور روس کی جغرافیائی سیاست بلکہ ان کے اندرونی سیاسی حالات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔”