تاثیر،۱۴ اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
تہران/تل ابیب، 14 اپریل: ایران نے اسرائیل پر دو سو سے زیادہ میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے زیادہ تر میزائل اور ڈرون اسرائیل کے دفاعی نظام نے فضا میں ہی مار گرائے۔ اسرائیل کی ڈیفنس فورس بیس کو کچھ نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد مسلسل بگڑتی صورتحال کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتوار کی شام چار بجے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ایران نے اتوار کی صبح 1800 کلومیٹر دور اسرائیل پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔ یہ شام میں ایران کے قونصل خانے پر حملے کے بعد جوابی کارروائی بتائی جا رہی ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب اسلامی (ا?ئی ا?ر جی سی) کے مطابق یہ ایک ٹارگٹڈ حملہ ہے۔قابل ذکر ہے کہ یکم اپریل کو شام میں قونصل خانے پر حملے کے بعد ایران نے بدلہ لینے کی بات کہی تھی۔ اس حملے میں ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر سمیت سات فوجی اہلکار مارے گئے۔ ایران نے اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا۔دوسری جانب اسرائیلی ڈیفنس فورسز (ا?ئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ 100 سے زائد ڈرونز چھوڑے گئے ہیں اور تمام حملے روکے جا رہے ہیں۔ اسرائیل، لبنان اور عراق نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ جبکہ شام اور اردن نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو چوکس کر دیا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم نے جنگی کابینہ کا اجلاس بلایا ہے۔ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی صورت حال کے لیے تیار ہے چاہے وہ دفاعی ہو یا جارحانہ۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ہمارا ساتھ دینے کے لیے امریکہ کے ساتھ ساتھ وہ برطانیہ، فرانس اور دیگر کئی ممالک کی تعریف کرتے ہیں۔اسرائیل پر ایران کے حملے پر امریکی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے کہا کہ صدر بائیڈن اسرائیل کی حفاظت کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہمیشہ اسرائیلی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس معاملے پر امریکی صدر نے وائٹ ہاو?س میں ہنگامی اجلاس کیا۔برطانوی وزیراعظم رشی سنک نے بھی ایران کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ اسرائیل اور اس کے تمام علاقائی شراکت داروں کی سلامتی کے لیے کھڑا رہے گا۔