بیان کےچھپی حقیقت کی جانچ نہیں ہونی چاہئے ؟

 

مرحوم مختار انصاری کے انتقال کے بعد اتر پردیش کے سب سے بڑے اپوزیشن لیڈر اور سماجودی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اظہار تعزیت کے لئے ضلع غازی پور کے قصبہ یوسف پور محمد آباد جائیں گے۔ یہ بات پوری دنیا کو معلوم ہے کہ یوپی کی باندہ جیل میںبند زور آور سماجی و سیاسی رہنمامختار انصاری کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہو گیا تھا۔تاہم انصاری کے اہل خانہ اور اپوزیشن لیڈر مختار انصاری موت کو مشتبہ قرار دے رہے ہیں۔ اسی دوران اکھلیش یادو محمد آباد پہنچ رہے ہیں۔ اس دورے کو بعض لوگ سیاسی عینک سے بھی دیکھ رہے ہیں۔مرحوم یوپی کے مؤ اسمبلی حلقہ سے پانچ بار ایم ایل اے رہ چکے تھے۔ درحقیقت مختار انصاری کی شبییہ کو ضرورت سے زیادہ مسخ کرنے کی میڈیا مہم کے درمیان ، ان کے علاقے میں بے شمار لوگ ایسے ہیں، جومرحوم کومسیحا مانتے رہے ہیں۔ انصاری خانوادے کے ساتھ آج بھی ان کے بہت سے عقیدتمند کھڑے ہیں، جس کی تصدیق جنازے کے جلوس میںعوام کے ازدحام نے کی تھی۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اکھلیش یادو کا دھیان اظہار تعزیت کے ساتھ ساتھ اسی تناظر میں ریاست کی مسلم آبادی پر بھی ہے۔مختار انصاری کی موت پر ایس پی سمیت کئی اپوزیشن لیڈروں نے بی جے پی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ مختار انصاری کی موت کے حوالے سے ان کے اہل خانہ کے الزامات کی وجہ سے سیاست گرم ہو گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مختار انصاری کی وابستگی کبھی بھی ایس پی کے ساتھ نہیں رہی۔ وہ آزاد، بی ایس پی اور قومی ایکتا دل کے ٹکٹ پر مؤ اسمبلی حلقہ سےایم ایل اے منتخب ہوتے رہے۔ بڑے بھائی صبغت اللہ انصاری اور پھر ان کے بیٹے صہیب عرف مانو انصاری نے ایس پی کے ٹکٹ پر محمد آباد سے کامیابی حاصل کی۔ اس بار ایس پی نے مختار انصاری کے بڑے بھائی افضل انصاری کو غازی پور سیٹ سے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ اس سے پہلے افضل نے بی ایس پی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ غازی پور، مئو، اعظم گڑھ سمیت پوروانچل کے بڑے حصوں میں انصاری خاندان کا اثر ہے۔ تمام مذاہب اور ذاتوں کے لوگ بڑی تعداد میں اس خاندان سے وابستہ ہیں۔ اتر پردیش کے لوک سبھا انتخابات میں ایس پی، بی ایس پی کے ساتھ ساتھ اسد الدین اویسی کی پارٹی بھی چناؤ لڑ رہی ہے۔ بی جے پی کے مقابلے میں یوپی میں اپوزیشن پارٹیوں کے لیے مسلم ووٹ بینک اہم ثابت ہو رہا ہے۔ ظاہر ہےاس دورے کے ذریعے اکھلیش یادو نہ صرف غازی پور میں افضل انصاری کے لیے ووٹ مانگیں گے بلکہ مسلم ووٹروں کو بھی اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ مقررہ پروگرام کے مطابق ایس پی سربراہ 7 اپریل کو لکھنؤ سے نجی طیارے سے وارانسی پہنچیں گے۔ اس کے بعد وہ 12.30 بجے غازی پور کے محمد آباد میں شہید انٹر کالج کے ہیلی پیڈ پر پہنچیں گے۔ ایس پی سربراہ تقریباً ایک بجے مختار انصاری کی رہائش گاہ پہنچیں گے۔ پھر وہاں خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ سے گفتگو بھی کریں گے۔ اس دوران اکھلیش یادو تقریباً 45 منٹ تک مختار انصاری کی رہائش گاہ پر قیام کریں گے۔ اکھلیش دوپہر 1:45 بجے مختار کی رہائش گاہ سے نکلیں گے۔ وہ 3 بجے لکھنؤ کے لیے روانہ ہوں گے۔اس سے قبل اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی اور راشٹریہ شوشیت سماج پارٹی کے صدر سوامی پرساد موریہ سمیت کئی لیڈر مختار انصاری کو خراج عقیدت پیش کرنے ان کے گھر پہنچ چکے ہیں۔ اکھلیش کے کزن اور اعظم گڑھ کے امیدوار دھرمیندر یادو بھی غازی پور پہنچ گئے ہیں۔ ایس پی ایم ایل اے راگنی سونکر اور دیگر نے بھی انصاری خاندان سے ملاقات کی ہے اور ان کے غم بانٹنے کی کوشش کی ہے۔
واضح ہو کہ 28

مارچ کو باندہ جیل میں ہی مختار انصاری کی طبیعت بگڑ گئی تھی۔ انھیں جلد بازی میں باندہ میڈیکل کالج لے جایا گیا۔ تھوڑی دیر بعد میڈیکل کالج میں ہی مختار انصاری اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ڈاکٹروں نے دعویٰ کیا کہ مختار انصاری کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے، پھر پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا۔ تاہم مختار کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کے کھانے میں زہر ملا ہوا تھا۔ مختار انصاری نے عدالت کو خط بھی لکھا تھا، جس میں انھوں نے سلو پوائزن دے کر قتل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اب سیاسی جماعتیں اس کو لے کر بی جے پی حکومت پر شدید حملہ آور ہیں۔یہاں تک کہ یوپی کے سابق ڈی جی پی سلکھن سنگھ نے بھی اس معاملے کی جلد از جلد سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔سوامی پرساد موریہ نے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

گودی میڈیا حقیت کو چھپا کر بھلے ہی محتار انصاری کی شبیہ کو خراب کرنے کے لئے پروپگنڈہ چلاتا رہے ، لیکن یہ بات تمام امن پسند عوام و خواص کی زبان پر ہے کہ غازی پور میں مختار انصاری کے خاندان کا تعلق ایک باوقار سیاسی خاندان سے ہے۔ مختار انصاری کے دادا ڈاکٹر مختار احمد انصاری نے جنگ آزادی کے دوران 17 سال سے زائد عرصے سے تک قید و بند کی صعوبتیں جھیلی تھیں۔گاندھی جی کے ساتھ کام کرتے ہوئے وہ 1926-27 میں کانگریس کے صدر بھی رہے۔ مختار انصاری کے نانا بریگیڈیئر محمد عثمان کو 1947 کی جنگ میں شہادت کے بعد ان کے اہل خانہ کو ’’ مہاویر چکر ‘‘ دیا گیا تھا۔ مختار کے والد سبحان اللہ انصاری اپنی صاف ستھری شبیہ کے ساتھ غازی پور کی سیاست میں سرگرم تھے۔ ملک کے سابق نائب صدر حامد انصاری مختار انصاری کے چچا ہیں۔غازی پور میں مختار انصاری کے خاندان کو پہلا سیاسی خاندان تسلیم کیا جاتا ہے۔ مختار انصاری کا خاندان علاقے کے غریب لوگوں میں حد درجہ قابل احترام ہے۔مختارانساری کے خاندان کی اگلی نسل سے ملیں گے تو آپ ایک بار پھر حیران رہ جائیں گے۔ مختار انصاری کے لڑکے عباس انصاری ایک بین الاقوامی شاٹ گن شوٹنگ کھلاڑی ہیں۔ عباس جن کا شمار دنیا کے ٹاپ ٹین شوٹرز میں ہوتا ہے، وہ نہ صرف قومی چیمپئن بن چکے ہیں بلکہ انہوں نے دنیا بھر میں کئی تمغے جیت کر ملک کا نام روشن کیا ہے۔ 1996 میں بی ایس پی کے ٹکٹ پر جیت کر پہلی بار اسمبلی پہنچنے والے مختار انصاری 2002، 2007، 2012 اور پھر 2017 میںمؤ اسمبلی حلقہ سےچناؤ جیتے تھے۔ انہوں نے ملک کی مختلف جیلوں میں بند رہتے ہوئے گزشتہ 3 انتخابات لڑے اور جیتے۔ اتر پردیش کی پراگندہ سیاست نے مختار انصاری کو جرائم کی دنیا میں پہنچا دیا اور رہی سہی کسر گودی میڈیا نے پوری کر دی۔اب تو ملک کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈر ا پنے انتخابی جلسوں میں علی الاعلان یہ بھی کہتے پھر رہے ہیں ’’ مختار انصاری اور اس قبیل کے دوسرے مسلم مجرموں کا صفایا ہم نے کیا ہے۔‘‘کیا اس طرح کے ہٹلری بیان کے پیچھے چھپی حقیقت کی اعلیٰ سطحی جانچ نہیں ہونی چاہئے ؟