ملک میں ان دنوں لوک سبھا انتخابات کی سر گرمیاں شباب پر ہیں۔الیکشن کمیشن نے 16 مارچ کو لوک سبھا انتخابات 2024 کی تاریخوں کا اعلان کیا تھا۔ 19 اپریل سے یکم جون کے درمیان سات مرحلوں میں انتخابات ہوں گے۔ ووٹوں کی گنتی 4 جون کو ہوگی۔ لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ساتھ 26 اسمبلی سیٹوں کے لیے بھی ضمنی انتخابات ہو نے والے ہیں۔
تاریخ کے صفحات بتاتے ہیں کہ ملک کے پہلے انتخابات1951-52 میں ہوئے تھے۔پہلے انتخابی عمل میں کل 120 دن لگے تھے۔ووٹنگ 25 اکتوبر کو صبح 6 بجے شروع ہوئی اور 27 اکتوبر تک جاری رہی۔ مہاسو ضلع کی چنی تحصیل کے ساتھ ساتھ چمبہ ضلع کی پنگی تحصیل میں بھی ووٹنگ کا عمل 25 اکتوبر سے شروع ہوا اور 2 نومبر تک جاری رہا۔ان دو تحصیلوں کے علاوہ ہماچل پردیش کے باقی حصوں میں ووٹنگ کا عمل 19 نومبر سے شروع ہوا تھا۔ ووٹنگ کا آخری مرحلہ 21 فروری 1952 کو مکمل ہوا۔ اس طرح ووٹنگ کا پورا عمل 120 دن تک جاری رہا۔1957 میں الیکشن کمیشن لوک سبھا انتخابات کے لیے پہلے سے ہی تیار تھا۔ ہماچل پردیش اور پنجاب کی پہاڑیوں میں برف سے ڈھکے چند حلقوں کو چھوڑ کر باقی ریاستوں میں 24 فروری سے 15 مارچ 1957 کے درمیان ووٹنگ کا عمل 20 دن کے اندر مکمل ہو گیا۔1962 میںملک کے تیسرے عام انتخابات میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے لیے ایک ساتھ ووٹنگ ہوئی۔ ووٹروں نے 16 اور 25 فروری 1962 کے درمیان سب سے زیادہ ووٹ ڈالے۔ اس کا مطلب ہے کہ تیسرے لوک سبھا کے انتخابات دس دن کی مدت میں ہوئے۔ 1967 میں تیسرے عام انتخابات کے وقت لوک سبھا کی 494 سیٹیں موجود تھیں، لیکن چوتھے عام انتخابات میں یہ تعداد بڑھ کر 520 ہو گئی۔ اس بار بھی لوک سبھا کے ساتھ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ 1967 میں لوک سبھا انتخابات میں ووٹنگ کا عمل صرف سات دنوں میں مکمل ہو گیا تھا۔ 1971 میںپانچویں لوک سبھا کے انتخابات میں ووٹنگ 1 مارچ 1971 سے 6 مارچ 1971 تک ہوئی۔ زیادہ تر ووٹنگ چھ دنوں میں مکمل ہوئی۔ کیرالہ میں پولنگ کی تاریخیں 3 مارچ اور 6 مارچ 1971 کو طے کی گئی تھیں ،لیکن ریاست کے نان گزیٹیڈ ملازمین اور سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی ہڑتال کی وجہ سے انتخابات 6 مارچ اور 9 مارچ 1971 کو کرانے پڑے تھے۔ اس طرح نو دنوں کے اندر ووٹنگ مکمل ہو گئی۔
1971 کے بعد اگلے لوک سبھا انتخابات ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد 1977 میں ہوئے تھے۔ نو ریاستوں اور سات مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایک دن میں، 11 ریاستوں اور دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دو دنوں میں اور دو ریاستوں میں تین دنوں میں ووٹنگ مکمل ہوئی۔ اس طرح چھٹے لوک سبھا انتخابات میں صرف چھ دنوں میں ووٹنگ ہو گئی۔ 1980 میں ساتویں لوک سبھا کے انتخابات صرف دو دن میں ہوئے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پورے ملک میں ووٹنگ صرف دو دن کے لیے مقرر کی گئی تھی۔ اس سارے عمل کا دورانیہ صرف چار دن تھا۔ 17 پارلیمانی حلقوں کو چھوڑ کر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میںمیں مقررہ شیڈول کے مطابق انتخابات 10 جنوری 1980 سے پہلے مکمل ہو گئےتھے۔آٹھویں لوک سبھا کے انتخابات 1984 میں ہوئے تھے۔ اس کے لیے 24 اور 27 دسمبر 1984 کو ووٹنگ ہوئی۔ پنجاب اور آسام میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ووٹنگ نہیں ہوئی۔ یہ انتخابات بعد میں ہوئے۔
1989: نویں لوک سبھا کے انتخابات کئی طریقوں سے مختلف تھے۔ اس سے قبل 1988 میں 61 ویں آئینی ترمیم کا ایکٹ منظور کیا گیا تھا ،جس کے تحت ووٹ ڈالنے کی عمر 21 سے کم کر کے 18 سال کر دی گئی تھی۔ ووٹنگ 22-26 نومبر 1989 کے درمیان ہوئی۔ یعنی ووٹنگ کا عمل پانچ دن تک جاری رہا۔ 10ویں لوک سبھا کے لیے 211 سیٹوں کے لیے ووٹنگ 20 مئی 1991 کو ہوئی۔ اسی دوران مدراس کے قریب انتخابی مہم کے دوران راجیو گاندھی کو قتل کر دیا گیا، جس کی وجہ سے باقی ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔ بعد میں 12 جون اور 15 جون 1991 کو ووٹنگ ہوئی۔ تین ریاستوں میں ووٹنگ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر ملتوی کر دی گئی۔ اس طرح ووٹنگ کا عمل 27 دنوں میں مکمل ہوا۔ 11ویں لوک سبھا کے لیے 1996 میں انتخابات ہوئے۔ ووٹنگ 27 اپریل، 2 مئی اور 7 مئی 1996 کو ہوئی۔اس طرح ووٹنگ کا عمل 21 دن تک جاری رہا۔اسی طرح ملک میں 12ویں لوک سبھا کے لیے ووٹنگ کا عمل 20 دنوں میں، 13ویں لوک سبھا کے کی تشکیل کے لیےووٹنگ کا عمل 21 دنوں میں 15ویں لوک سبھا کے لے ووٹنگ کا عمل 28 دنوں میں مکمل ہوگیا تھا۔ 16ویں لوک سبھا کے ارکان کے انتخاب کے لیے ملک بھر میں 7 اپریل سے 12 مئی 2014 تک نو مرحلوں میں عام انتخابات ہوئے۔اس طرح 2014 کے لوک سبھا انتخابات 36 دن کی مدت میں ہوئے تھے۔ 17ویں لوک سبھا کے لیے عام انتخابات 11 اپریل سے 19 مئی 2019 تک سات مرحلوں میں منعقد ہوئے۔ اس طرح ملک بھر میں پچھلی بار ووٹنگ 39 دن کی مدت میں ہوئی تھی۔ تاہم انتخابات کے دوران تمل ناڈو کے ویلور پارلیمانی حلقہ میں بھاری مقدار میں غیر قانونی رقم ضبط ہونے کی وجہ سے اس سیٹ پر ووٹنگ ملتوی کر دی گئی تھی۔جس پر بعد میں یعنی اگست 2019 میںووٹنگ ہوئی تھی۔
اس بار الیکشن کمیشن نے 16 مارچ کو 18 ویں لوک سبھا کے لئے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا تھا۔ انتخابات 19 اپریل سے سات مرحلوں میں ہوں گے۔ ووٹوں کی گنتی 4 جون کو ہوگی۔ لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ساتھ 26 اسمبلی سیٹوں کے لیے بھی ضمنی انتخابات ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی اروناچل پردیش، سکم، آندھرا پردیش اور اڈیشہ میں اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ اس طرح 2024 کے لوک سبھا انتخابات 44 دن کی مدت میں ہوں گے۔اس طرح اس بار کا الیکشن تاریخ کا دوسرا طویل ترین الیکشن کے طور پر اپنا رکارڈ قائم کرے گا۔
*****

