تاثیر،۵ اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
روزہ داروں نے ملک میں امن اور ترقی کے لیے مانگی خصوصی دعا
چھپرہ(نقیب احمد)
رمضان المبارک کے آخری جمعہ کی نماز ضلع کی تمام مساجد میں جوش و خروش کے ساتھ ادا کی گئی۔روزہ داروں نے جمعہ کی دو رکعتیں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ہر خاص و عام کی بھلائی اور ملک کی سلامتی اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔الوداع و الوداع یا ماہ رمضان الوداع کے کلمات سے روزہ داروں کی آنکھیں نم ہو گئیں اور رمضان المبارک کی رخصتی کا غم تمام روزہ داروں پر صاف دکھائی دے رہا تھا۔جامعۃ الوداع میں نمازیوں کی بھیڑ کو مدنظر رکھتے ہوئے مسجد انتظامیہ نے جائے نماز،چٹائی،قالین،تمبو وغیرہ کا خصوصی انتظام کیا تھا۔اس کے باوجود مساجد میں نمازیوں کے لیے جگہ کی کمی محسوس کی گئی۔روزہ داروں کی بھیڑ پہلی اذان کے ساتھ ہی مساجد میں آنا شروع ہوئی اور نماز کے وقت تک جاری رہی۔تمام مساجد کے ائمہ و خطیب نے رمضان المبارک کی فضیلت اور اہمیت بیان کی اور لوگوں کو رمضان کے بعد بھی پرہیز اور نماز کی پابندی کرنے کی تلقین کی۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک انسان کو متقی اور نیک بناتا ہے۔قاضی شہر مولانا ولی اللہ قادری نے کہا کہ جمعتہ الوداع بھی دیگر جمعہ کی طرح ہی ہے۔اس کا ثواب بھی دوسرے جمعوں کی طرح ہے۔لیکن یہ جمعہ رمضان کے آخری عشرے میں ہوتا ہے۔اس لیے اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔شہر کے کریم چک،کھنواں،صاحب گنج،چھوٹا تیلپا،بڑا تلپا، روضہ،دہیاواں،نیا بازار،بھگوان بازار،گڑہی تیر،کٹرا،گدری،نبی گنج،جلال پور،برہم پور سمیت کئی علاقوں سمیت جامع مسجدوں میں نماز پڑھنے کے لیے لوگوں کا ہجوم امنڈ پڑا۔رمضان المبارک کا آخری جمعہ ہونے کی وجہ سے بزرگوں اور بچوں کی بڑی تعداد نے بھی روزہ رکھا اور مسجد پہنچ کر نماز ادا کی۔جامع مسجد میں مولانا نثار احمد مصباحی،کھنواں مسجد میں مولانا عبدالقادر،مولا مسجد میں مولانا ذاکر،شیعہ مسجد میں مولانا سید معصوم رضا،بڑا تلپہ میں مولانا رجب القادری،املی محلہ مسجد میں مولانا صابر قاسمی وغیرہ نے اپنے خطبات میں اظہار خیال کیا۔رمضان کی اہمیت بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیکیاں جمع کرنے کا مہینہ گزر جائے تو نیک لوگ اداس ہوتے ہیں۔

