تاثیر،۱۶ اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
تل ابیب،16اپریل:ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے منگل کو ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کو بتایا ہے کہ حماس نے یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے تازہ ترین مجوزہ معاہدے کی تمام شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حماس نے اپنے ردعمل میں درخواست کی ہے کہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی مذاکرات کاروں کی طرف سے ضمانت فراہم کرنے سے مشروط کی جائے۔دوسرے مرحلے میں اسرائیل مستقل جنگ بندی پر رضامند ہو،غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء کیا جائے اور فلسطینی شہریوں کو ان کے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دینے کے بعد قیدیوں کے تبادلے کے اگلے مرحلے پرکام شروع کیا جائے۔
حماس تحریک کے ردعمل میں فلسطینی فوج داری نوعیت کے قیدیوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہیں اسرائیل ہر اسیر کے بدلے رہا کریگا۔حماس نے اسرائیلیوں کے قتل میں سزا پانے والے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی بھی شرط رکھی ہے۔اس تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پیر کے روز کہا تھا کہ اسرائیل “بہت اچھے ٹریک پر” ہے، لیکن حماس ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ ہے جو غزہ میں لڑائی کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کا باعث بنے۔حماس نے ایک معاہدے تک پہنچنے کی تازہ ترین تجویز کو مسترد کر دیا اور کہا کہ یرغمالیوں کے حوالے سے کسی بھی نئے معاہدے میں غزہ جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے اور تمام اسرائیلی افواج کا انخلاء بھی شامل ہے۔
ملرنے ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ “اسرائیل نے اس تجویز کو پیش کرنے میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ میز پر ایک معاہدہ تھا جو حماس کے بہت سے مطالبات کو پورا کرے گا لیکن اس نے اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دیا۔ملر نے وضاحت کی کہ امریکہ اب بھی ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے جو کم از کم چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی اور غزہ میں مزید امداد کے داخلے کی اجازت دے گا۔ایک اسرائیلی اہلکار نے پیر کے روز کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات پر اپنے تازہ ردعمل میں حماس نے غزہ کی پٹی میں 20 قیدیوں کو چھ ہفتے کی جنگ بندی کے بدلے رہا کرنے کی پیشکش کی ہے۔
اسرائیلی واللا ویب سائٹ نے نام ظاہر نہ کرنے والے اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ حماس نے اپنے ردعمل میں اس تعداد کو کم کرنے کا جواز فراہم کیا جس پر پہلے اتفاق کیا گیا تھا۔حماس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس فی الحال چالیس اسرائیلی قیدی موجود نہیں۔ اسرائیل نیبعض ایسے یرغمالیوں کے نام نام پیش کیے تھیجو زندہ نہیں ہیں اور بعض قیدی دوسری تنظیموں کے پاس ہیں۔

