غزہ میں فائر بندی کے نئے فریم ورک پر غور کر رہے ہیں: حماس

تاثیر،۱۰       اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

غزہ،09اپریل:فلسطینی گروپ حماس کا کہنا ہے کہ وہ قاہرہ میں مذاکرات کے حالیہ دور کے دوران تجویز کردہ فائر بندی کے لیے ایک نئے فریم ورک پر غور کر رہا ہے جبکہ جنوبی غزہ میں واپس آنے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی فوجیوں کے انخلا کے بعد ہونے والی بے تحاشہ تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے منگل کو حماس کے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی خونریز ترین جارحیت کے چھ ماہ بعد، قطری، مصری اور امریکی ثالثوں نے ایک اور عارضی فائر بندی کی تجویز پیش کی ہے۔تین حصوں پر مشتمل اس تجویز پر عمل درآمد کی صورت میں اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کے بدلے حماس کے پاس قیدیوں کے تبادلے کے لیے چھ ہفتوں تک لڑائی روکی جائے گی۔حماس نے منگل کو ثالثوں کی کوششوں کو ’سراہتے‘ ہوئے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ مذاکرات کے دوران اس کے کسی بھی مطالبے کا جواب نہیں دے رہا ہے۔فلسطینی گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس کے باوجود، تحریک کی قیادت پیش کردہ تجویز پر غور کر رہی ہے۔‘کئی مہینوں کی شدید لڑائی کے بعد، اسرائیل نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں اعلان کیا کہ اس نے جنوبی شہر خان یونس سے اپنی فوجیں نکال لی ہیں تاکہ جنگ کے اگلے مرحلے، جس میں رفح پر حملہ بھی شامل ہے، کی تیاری کے لیے فوجی واپس جا سکیں۔اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے پیر کو کہا کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر، جہاں بے گھر فلسطینی آبادی کی اکثریت موجود ہے، میں زمینی فوج بھیجنے کے لیے ایک تاریخ طے کر دی گئی ہے۔غیر ملکی طاقتوں اور انسانی امداد کے اداروں نے بڑے پیمانے پر شہری اموات کے خوف سے مسلسل اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ وہاں کوئی کارروائی نہ کرے۔لیکن نتن یاہو اور ان کے فوجی کمانڈروں کا اصرار ہے کہ دوسری صورت میں حماس پر فتح حاصل نہیں کی جا سکتی۔نتن یاہو نے ایک ویڈیو، جس میں وقت کی وضاحت نہیں کی گئی تھی میں کہا کہ ’یہ ہوگا – اس کے لیے ایک تاریخ طے ہے۔‘اس کے جواب میں، اسرائیل کے اہم حمایتی امریکہ نے رفح آپریشن پر اپنے اعتراضات دہرائے اور کہا کہ اس سے ’بالآخر اسرائیل کی سلامتی کو نقصان پہنچے گا‘، جب کہ اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے اسے ’فائربندی کا صحیح وقت‘ قرار دیا ہے۔