تاثیر،۱۵ اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضا امام) 15 اپریل:-ادبی دالان دربھنگہ کے زیر اہتمام بھیم راؤ امبیڈکر جینتی کے موقع پر ڈاکٹر ایوب راعین کی کتاب ‘پمریا'(دوسرا ایڈیشن) پر مذاکرہ کا اہتمام اعیان کھاد بیج بھنڈار، عدل پور دربھنگہ کے احاطہ میں کیا گیا۔پروگرام کی صدارت محمد نسیم صاحب نے کی ۔ مہمان خصوصی کے طور پر عدل پور پنچایت کے مکھیا اجتبیٰ حسن (بلبل) اور مہمان اعزازی کے طور پر فکشن نویس ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے شرکت کی ۔فیاض احمد وجیہہ نے پروگرام کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔ پروگرام کی شروعات میں سماجی کارکن اسامہ حسن نے کتاب کا تعارف پیش کیا اور اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندہ کمیونٹی کی سچائی کو پیش کرنے والی یہ الگ نوعیت کی کتاب ہے۔ اس کتاب سے پمریا مسلمانوں کی اقتصادی، تعلیمی اور سماجی صورتحال کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ مہمان اعزازی ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب مسلمانوں کی اس کمیونٹی کی بات کرتی ہے جس پر کبھی ڈھنگ سے سوچا تک نہیں گیا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے حقوق اور اختیارات کے بارے میں بہت زیادہ بول نہیں پاتے ہیں ۔ امبیڈکر جینتی کے موقع پر اس طرح کی پسماندہ کمیونٹی کے بارے میں لکھی گئی کتاب پر غور و فکر کرنا دراصل ان کے نظریات کی اہمیت کو تسلیم کرنا بھی ہے۔جب بھی ہم اس طرح سے سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں تو ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اس پسماندہ کمیونٹی کو اپنا مان کر ان سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے ان کے بارے میں سوچیں۔ تبھی یہ کوشش ثمر آور ہوگی۔مہمان خصوصی اجتبیٰ حسن نے کتاب کے لیے ڈاکٹر ایوب راعین کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس طرح کی کتابوں سے سماج میں بیداری آتی ہے اور جب بھی ہمارے پاس موقع ہو ہمیں کتاب ، سماج اور تعلیم کے بارے میں ضرور غوروفکر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اس طرح سے سوچنا شروع کردیں گے تو انسانی نقطہ نظر کو برتری حاصل ہوگی اور یہی ایک شہری کے طور پر ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے جن لوگوں کے لیے آواز اٹھائی ان کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اس طرح کی کتابوں کی مزید ضرورت ہے۔کتاب کے مصنف ڈاکٹر ایوب راعین نے کہا کہ مسلم سماج میں ذات پر مبنی اس طرح کی کوئی کتاب نہیں تھی ، پہلی بار 2015 میں پمریا مسلمان کے بارے میں میری یہ کتاب آئی ، جس کا یہ دوسرا ایڈیشن ترمیم و اضافہ کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پمریا سماج میں آج بھی تعلیمی پسماندگی بہت زیادہ ہے، اس سمت میں ملی او ر سماجی اداروں کو آگے آکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مقررین نے اس موقع پر خصوصی طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ ڈاکٹر راعین نے اس کتاب کو لکھنے کے دوران متعلقہ کمیونٹی کے بیچ جاکر کام کیا ہےاور کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں زمینی سچائیاں چھن چھنا کر سامنے آئی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ کتاب آئندہ ریسرچ کرنے والوں کے لیے مشعل راہ ہے۔فیاض احمد وجیہہ نے اس موقع پر کتاب میں شامل اپنا مقدمہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کو سچی خراج تحسین یہی ہوگی کہ ہم سماج میں ہر ہر سطح پر مساوات کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔اس موقع پر عمران اعظم نے شکریہ کے کلمات ادا کیے ۔ پروگرام میں دلشاد عالم، عمران اعظم، راشد مہدی، شرف الزماں، راشد جمال صدیقی،محمد ابوالحسن، محمد امین (فیروز) اور دانش جمال وغیرہ نے شرکت کی۔

