غزہ معاہدہ قبول کرنے پر اسرائیلی وزیربن گویر کی حکومت سے نکلنے کی پھردھمکی

تاثیر۳       جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

تل ابیب، 03جون:وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کی جانب سے اسرائیل اور حماس تحریک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے متعلق مثبت اشارے کی بات سامنے آنے کے بعد اسرائیل کے وزیر بن گویر نے ایک مرتبہ پھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو کو دھمکی دی ہے۔ بن گویر نے کہا کہ نیتن یاہو نے غزہ معاہدہ قبول کیا تو وہ اڑ جائیں گے یعنی حکومت سے نکل جائیں گے۔ انہوں نے ’’ایکس‘‘پر کہا کہ کہ اگر یاہو کسی معاہدے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے تو ہم حکومت کو تحلیل کر دیں گے۔
انہوں نے قیدیوں کے تبادلے کے مجوزہ امرییکی معاہدے کو غیر ذمہ دارانہ اور حماس کی تباہی کے مقصد کو چھوڑ دینے والا قرار دیا۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب کربی نے اے بی سی نیوز کو انٹرویو کے دوران کہا کہ واشنگٹن توقع کرتا ہے کہ اگر حماس نے مجوزہ تجویز پر اتفاق کرلیا تو اسرائیل بھی بائیڈن کی تجویز پر رضامند ہو جائے گا۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے امریکی سی بی ایس نیٹ ورک کو تصدیق کی کہ نیتن یاہو اور جنگی کابینہ نے اس تجویز کی منظوری دے دی ہے۔ ادھر فلسطینی تحریک حمسا نے پہلے اشارہ کیا تھا کہ بائیڈن کے بیانات اور غزہ کی پٹی کے حوالے سے جنگ بندی کی تجویز مثبت تھی۔نیتن یاہو کے سیاسی مشیر اوفیر فالک نے اتوار کو کہا کہ یہ منصوبہ مثالی نہیں ہے۔ کچھ غیر واضح نکات پر بحث کی ضرورت ہے۔ غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے یرغمالیوں کو بازیاب کرانا ناکافی ہوگا۔ تاہم اسرائیل اس کو تسلیم کرسکتا ہے۔