تاثیر۱۹ جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
لکھنؤ، 19 جولائی :مظفر نگر میں کانوڑ یاترا کے دوران راستوں پر پڑنے والے ڈھابوں اور ٹھیلوں پر مالکان کا نا م جلی حروف میں لکھنے کے احکامات کے بعد اٹھے تنازعہ کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بیان جاری کیا ہے۔ ریاست بھر میں کہیں بھی کانوڑ یاترا کے راستے پر پڑنے والی دکانوں کے مالکان کے نام لکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اب کسی بھی کانوڑ یاتری کو سفر کے دوران اشیائے خوردونوش کی خریداری میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی، حکومتی ترجمان کے مطابق کانوڑ روٹس پر کھانے پینے کی دکانوں پر نام کی پلیٹیں لگانی ہوں گی۔ نام کی پلیٹ میں دکان چلانے والے اور اس کے مالک کا نام لکھا جائے گا۔ حکومت نے یہ قدم کانوڑ یاتریوں کے آستھاکی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حلال سرٹیفیکیشن والی مصنوعات کو اتر پردیش میں فروخت نہیں کیا جائے گا۔ ایسی اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کئی بار پولیس کو شکایات موصول ہوئیں کہ کچھ لوگ اپنا مذہب چھپا کر کاروبار کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ریستوراں اور کھانے کی دوسری دکانیں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے دکان میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی تصاویر بھی لگائی ہیں۔ اس لیے ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی دکانوں کے آگے اپنا نام لکھیں تاکہ شیو بھکت صرف ان دکانوں پر جائیں جہاں انہیں صفائی اور پاکیزگی کا یقین ہو۔ شیو بھکتوں کی پریشانی کو سمجھتے ہوئے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے یہ قدم اٹھایا ہے۔

