تاثیر۲۲ جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ماسکو،22جولائی:روس اور یوکرین کے درمیان لڑائی جاری ہے۔تازہ ترین پیش رفت میں روس نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب اپنی اراضی کی سمت بھیجے جانے والے یوکرین کے 75 ڈرون طیارے مار گرانے کا اعلان کیا ہے۔روسی وزارت دفاع کے ایک تفصیلی بیان کے مطابق “فضائی دفاعی نظام نے 47 طیارے روستوو کی فضا میں ، 17 طیارے بحیرہ آزوو اور بحیرہ اسود پر اور 8 طیارے کرسنوڈور کی فضا میں مار گرائے جب کہ بیلگروڈ، فورونیج اور اسمولنسک کے علاقوں میں ایک ، ایک ڈرون گرایا گیا”۔کرسنوڈور کے علاقے کے ذمے داران کے مطابق گذشتہ رات یوکرین کے ڈرون طیاروں کے حملے میں بحیرہ اسود کے ساحل پر واقع روسی آئل ریفائنری کو نقصن پہنچا۔روس کی جانب سے تقریبا روزانہ کی بنیاد پر یوکرین کے ڈرون طیاروں کو تباہ کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے جو اس کی اراضی کو نشانہ بنانے آتے ہیں۔ادھر کئیف حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یہ ڈرون حملے یوکرین پر دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری روسی بم باری کے جواب میں کر رہا ہے۔ یوکرین کے مطابق اس کی اولین ترجیح عسکری اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے۔
یوکرین کے صدر ولودی میری زیلنسکی نے پیر کے روز ایک بیان میں امریکی صدر کی جانب سے یوکرین کی سپورٹ میں کیے گئے “جرات مندانہ” اقدامات پر جو بائیڈن کا شکریہ ادا کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر زیلنسکی نے لکھا کہ “یوکرین اور پورے یورپ میں موجودہ صورت حال کم دشوار نہیں ہے۔ ہم امریکا کی قوی قیادت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ روس کے شر کو (یوکرین سے) دور رکھے گی اور اسے جیت سے روک دے گی … ہم ہمیشہ صدر بائیڈن کی قیادت کے شکر گزار رہیں گے۔ انھوں نے (روسی صدر) پوتین کو ہمارے ملک پر قبضہ کرنے سے روکنے میں ہماری مدد کی اور اس خوف ناک جنگ میں پورے وقت ہماری سپورٹ جاری رکھی”۔

