تاثیر ۲ اگست ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ساوتھ پورٹ، یکم اگست: برطانیہ میں ڈانس ورکشاپ میں چاقو سے حملہ کرکے تین لڑکیوں کے قتل کے واقعے کے بعد شمال مغربی انگلینڈ میں کشیدگی ہے۔ لڑکیوں کے قتل کے خلاف احتجاج میں کئی پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ منگل کی دیر رات پرتشدد مظاہرے میں درجنوں برطانوی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
لڑکیوں کے قتل کے خلاف احتجاج میں ساوتھ پورٹ پولیس وین کو آگ لگا دی گئی اور مظاہرین نے باغ کی دیواریں توڑ دیں اور پولیس اہلکاروں اور مسجد پر اینٹیں پھینکیں۔ سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ تینوں لڑکیوں کو ایک مسلم نوجوان نے قتل کیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ عام طور پر پرسکون شہر میں ہونے والے اس ہولناک واقعے میں آٹھ دیگر بچے زخمی ہوئے، جن میں پانچ کی حالت تشویشناک ہے اور دو بالغ افراد جنہوں نے انہیں بچانے کی کوشش کی تھی، کو بھی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ پولیس نے 17 سالہ نامعلوم لڑکے کو قتل اور قتل کی کوشش کے شبہ میں گرفتار کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ شخص برطانیہ میں پیدا ہوا ہے۔
نارتھ ویسٹ ایمبولینس سروس نے بدھ کو کہا کہ کل 39 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے 27 کو اسپتال لے جایا گیا۔ مجرموں نے کاروں کو آگ لگا دی اور مسجد کی پارکنگ میں کھڑی کاروں کو نقصان پہنچایا۔ پیر کے روز لیورپول کے شمال واقع شہر میں بچوں کے لیے ٹیلر سوئفٹ تھیم پر مبنی ڈانس شو میں 6 سے 9 سال کی تین لڑکیوں پر پرتشدد حملہ کیا گیا، جس میں تین بچیوں کی موت ہوگئی۔ اس حملے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
سوئفٹ کے پرستار اب تک متاثرین کے اہل خانہ اور بچوں کا علاج کرنے والے اسپتال کی مدد کے لیے 270,000 پاونڈز جمع کر چکے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ تشدد منگل کی دیر رات اس وقت شروع ہوا جب لوگوں کے ایک بڑے گروپ نے شہر کی ایک مسجد کی طرف اشیاء پھینک کر کمیونٹی کی توہین کی۔

