تاثیر ۳ اگست ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
سہسرام ( انجم ایڈوکیٹ ) سہسرام کیمور پہاڑیوں کے گھنے جنگلات میں آباد 26 گاؤں کے 33 بستیوں کی صورتحال حکام اور عوامی نمائندوں کی بے حسی کے باعث جہنم بن چکی ہے ۔ سال 2018 میں بجلی کی سہولت کیلئے بلاک کے 26 دیہاتوں کی 33 بستیوں میں سولر لائٹس لگائی گئی تھیں جس کا افتتاح وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ریحل پہنچ کر کیا تھا لیکن وزیر اعلیٰ کے جاتے ہی وہاں پر بجلی کا فیل ہونا عام ہو گیا، کہیں دو، کہیں ایک اور کچھ جگہوں پر چار سال سے لائٹ بند ہے ۔ انجینئرس بھی وہاں کے لوگوں سے ملنے اور وہاں کی صورتحال دیکھنے گئے اور یہ کہہ کر واپس لوٹے کہ جب سامان ممبئی سے آئیگا تو سب ٹھیک ہو جائیگا، اس کے بعد بھی ڈیڑھ سال تک مذکورہ کام نہیں ہوا، مٹی کا تیل بھی بہت مہنگا ہے، ایسے میں بنواسی لوگ اندھیرے میں زندگی گزار رہے ہیں، حالات ایسے ہیں کہ اس وقت مختلف گاؤں کی 31 سولر لائٹ بند ہے۔ جنگلات کے مکینوں کا کہنا ہے کہ رات کے اندھیرے میں جنگل سے جنگلی جانور اور سانپ کے آتے کا خوف بنا رہتا ہے، جب بارش ہوتی ہے تو مسئلہ اور بھی بڑھ جاتا ہے، حکام اور عوامی نمائندے جب پہاڑوں پر آتے ہیں تو کبھی پاکیزہ ماحول کی باتیں کرتے نہیں تھکتے لیکن اگر انہیں 10 دن رات کی تاریکی میں رہنا پڑے تو انکا درد سمجھ میں آجائیگا ۔ شمسی توانائی بند ہونے کے چلتے 10 ہزار سے زائد آبادی متاثر ہے لیکن ضلع کے کسی افسران نے اس کا نوٹس نہیں لیا ۔ اس سلسلے میں سابق مکھیا شیام نارائن اوراؤں نے بتایا کہ جموندہ اور ہرایاڈیہ میں کبھی کبھی بجلی آتی ہے لیکن ریحل کوبہ، بجمروا، ہسدی، سولی چونہٹہ بانڈہ، ہرایاڈیہ، جیمردگ، کورہاس میں برسوں سے سولر بند ہے ۔ اس حوالے سے جے ای راجیو کمار سنگھ کا کہنا ہے کہ جنوبی بہار کا Enel&T کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا، بیٹری کی معیاد ختم ہو چکی ہے، سبھی جگہ کی بیٹری تبدیل کر بجلی کی فراہمی شروع کی جائیگی ۔

