تاثیر ۳۰ ستمبر ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
این ایس پی اے کے زیر ا ہتما م پٹنہ میں محمود فاروقی اور دارین شاہدی نے کیا فنِ داستان گوئی کا مظاہرہ
پٹنہ 30 ستمبر (محمد نور عالم ) تقریباََ ڈھائی پونے تین سو برسوں سے عوام کے دلوں میںرچے بسے اور ’’ خدائے سخن ‘‘ کے لقب سے یاد کئے جاتےرہے اردو کے عظیم ومنفرد شاعر میر تقی میرؔ کی ولادت کی 300ویں سالگرہ کے ساتھ ساتھ اردو کے مشہور ادیب، ناقد و محقق شمس الرحمٰن فاروقی کی ولادت کی 89 ویں سالگرہ کے موقع پر عظیم آباد کی سرزمین کل میر تقی میرؔ کی شاعری اور ان کی یادو اور باتوں کی خو شبو ؤں سے دیر رات تک عطر بیز رہی۔ شہرت یافتہ فنکار، منظر نگار و ہدایت کار محمود فاروقی اور سینئر صحافی و فنکار دارین شاہدی نے کل روِندر بھون میںاپنی بے مثال ’’داستان گوئی‘‘ کے فن کامظاہرہ کرتے ہوئے میر تقی میرؔ کی ایسی پیکر تراشی کی کہ ڈائس پر ’’خدائے سخن‘‘ اپنے بچپن سے لیکر بڑھاپے تک یعنی عہد بہ عہد اپنے وقت کے شاعروں، بادشاہوں ، نوابوں اور عام لوگوں کے ساتھ چلتے پھرتے، سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے ،اپنے منفرد انداز میں گفتگو کرتے اور اشعار سنتے اور سناتے ہوئے دکھائی دینے لگے تھے۔

میر ؔ اپنی 87 سالہ زندگی میں دہلی کو کس طرح سے آباد ہوتے اور پھر بار بار اسے اجڑتے ہوئے دیکھتے رہے، وقت اور حالات کے ساتھ وہ کس طرح سے ٹوٹتے اور بکھرتے رہے، ہال میں بیٹھے لوگوں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا ۔لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ جب میر کو ؔ دہلی چھوڑ کر لکھنؤ آنا پڑا تو یہاں بھی ان کی خود داری او رشعری تعلّی کو کیسے قدم قدم پر ٹھیس لگتی رہی۔ اور پھر حالات سے تنگ آ کر وہ اپنی ہی شاعری کے ذریعہ اپنی بدحالی کا اپنا مذاق اڑاتے اور طنزاََ قہقہ لگارہے۔اور آخر کار 1810 میں انھوں نے خود کو لکھنؤ ہی کی مٹّی کے حوالے کر دیا۔ محمود فاروقی اور دارین شاہدی کی اس شاندار پیش کش نے واقعی تما م ناظرین و حاضرین کو دم بخود کردیا تھا۔
اس یاد گار ’’داستان گوئی‘‘ کا اہتما م پٹنہ کی معروف ثقافتی تنظیم ’’نوراس اسکول آف پرفارمنگ آرٹس ‘‘(این ایس پی اے) نے کیا تھا۔داستان گوئی کے آغازسے پہلے ’’نوراس اسکول آف پرفارمنگ آرٹس‘‘ کے سکریٹری اور بہار کے چیف کارڈیک سرجن و ’’جیوک ہارٹ ہوسپیٹل، پٹنہ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ ’’داستان‘‘ اردو کی فراموش صنف تھی ، اس کو جس طرح شمس ارحمٰن فاروقی صاحب نے 21 ویں صدی میںزندگی بخشی اسی طرح ان کے بھتیجے محمود فاروقی صاحب نے ’’فن داستان گوئی‘‘ کو ماضی گرد و غبار سے باہر نکال کر ایک بااثر فن کے طو ر ہم سب کے درمیان پیش کیا ہے۔
اس کے لئے ہم فاروقی فیملی کی جتنی بھی ستائش کریں، کم ہے۔انھوں نے کہا کہ آج کا یہ پروگرام بطور خراج عقیدت شمس الرحمٰن فاروقی کو پیش ہے۔ این ایس پی اےکا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ بہار کا پہلا پرفارمنگ آرٹس پلیٹ فارم ہے، جس نے بہار کی کلاسیکی موسیقی، رقص اور ادب کی روایت کو زندہ رکھا ہے۔ انھوں نے کہا تقریباً 40 سال پہلے تک پٹنہ ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا، جس میں ملک کے تمام سرکردہ فنکار شریک ہوا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ اس عظیم روایت کی روشنی مدھم پڑنے لگی تھی۔ اسی روشنی کو تابندہ رکھنے کئے لئے 2009 میں این ایس پی اے کا قیام عمل میں آیا۔ ان 15 برسوں میں اس تنظیم کے زیر اہتما م 149 کامیاب کنسرٹس اور تقریبات کا انعقاد ہو چکا ہے۔ 150 ویںتقریب کے طور پر آج ’’داستان میر‘‘ حاضر ہے۔ ہر پروگرام کی طرح اس پروگرام میں بھی داخلہ سب کے لیے مفت ہے۔
تقر یباََ ڈھائی گھنٹے تک چلے اس پروگرام کے دوران صرف محمود فاروقی اور دارین شاہدی کی باتیں اور ان کے مکالمے سنائی دے رہے تھے۔ وقفے وقفے سے سامعین و ناظرین کی تالیوں اور ’’واہ، واہ‘‘ کے ساتھ داستان گوئی کی دھن پر میرؔکے اشعار پڑھنے والوں کی آوازیں بھی سننے کو ملتی رہیں۔ اس موقع سے ایم پی اور مشور فلم اداکار شتروگھن سنہا، ایم پی راجیو پرتا روڑھی، سابق چیف سکریٹری تریپوراری شرن، لیبر رسورسز کے سکریٹری دیپک آند، کریمی، آئی جی نیئر حسنین خان، سابق چیئر مین بی پی ایس سی امتیاز احمد ،ڈاکٹر شکیل معین، ڈاکٹر اشرف النبی قیصر، ڈاکٹر قاسم خورشید، پروفیسرصفدر امام قادری، مشتاق احمد نوری، سنجے کمار کند، نیلانشو رنجن، صحافی فیضان احمد، پروفیسر رضوان اللہ آروی، اشتیاق یوسف، غلام سرور ندوی، صحافی اصغر امام، احمد اللہ قاسمی سمیت بڑی تعداد میںعمائدین شہر ہال میں موجود تھے، جن غیر اردو داں خواتین و حضرات کی تعداد اچھی خاصی تھی۔ اس موقع پر ڈاکٹر اجیت پردھان کی اہلیہ انویتا پردھان مہمانوں کے استقبال میں مصروف تھیں۔
******

