تاثیر 18 اکتوبر ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ارریہ (مشتاق احمد صدیقی ) مائناریٹی ڈیولپمنٹ فورم ارریہ کے زیرِ اہتمام سر سید احمد خان کی ایک سو ساتویں یومِ پیدائش کے موقع پر سر سید ڈے تقریب کا انعقاد سر سید لائبریری ٹاؤن ہال ارریہ میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ کیا گیا۔ اس موقع پر ریاستی اور علاقائی سطح کی معروف تعلیمی، سماجی، اور ادبی شخصیات نے شرکت کیں اور سر سید احمد خان کی تعلیمی، سماجی اور ادبی خدمات کی سراہنا کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ سر سید ڈے منانے کا مقصد سر سید احمد خان کی تعلیمات اور ان کی خدمات کو نوجوان نسل تک پہنچانا اور علی گڑھ تحریک کے مشن کو آگے بڑھانا تھا۔ تقریب کی صدارت مائناریٹی ڈیولپمنٹ فورم کے صدر انجینئر زبیر عالم نے کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا، “سر سید احمد خان نے اس وقت مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا، جب قوم اندھیروں میں بھٹک رہی تھی۔ آج اگر ہم تعلیمی میدان میں کامیاب ہیں تو یہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ہمیں ان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی نئی نسل کو جدید علوم سے آراستہ کرنا چاہیے تاکہ ترقی کے اس دوڑ میں شامل ہو سکیں۔ مائناریٹی ڈیولپمنٹ فورم کے سکریٹری الحاج نیر الزماں نے افتتاحی خطاب میں سر سید احمد خان کی دوراندیشی کی تعریف کرتے ہوئے کہا، “سر سید کا تعلیمی مشن آج بھی زندہ ہے اور ہمیں اسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قوم کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر تعلیم کی روشنی سے منور کیا اور آج ہمیں اسی راہ پر چلتے ہوئے اپنی قوم کو ترقی یافتہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔” معروف تعلیمی شخصیت الحاج ماسٹر محسن نے سر سید احمد خان کے تعلیمی انقلاب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، “سر سید نے مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کیا اور تعلیم کے میدان میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا، جس کا اثر آج بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں معیارتعلیم کو بہتر کرنا ہوگا اور اساتذہ و طلباء کو جدید علوم و ہنر کی طرف راغب کرنا ہوگا تاکہ ہم سماجی اور معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔ معروف کہانی نویس پرویز علیگ نے سر سید احمد خان کی ادبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تصانیف ہمارے ادبی ورثے کا قیمتی حصہ ہیں۔ “سر سید نے نہ صرف مسلمانوں میں تعلیمی بیداری پیدا کی بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرتی اصلاحات کا بھی بیڑا اٹھایا۔ ان کی تحریریں آج بھی ہمیں زندگی کے مختلف شعبوں میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض معروف وکیل ایڈووکیٹ زیڈ اے مجاہد علیگ نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ انجام دیا۔ ان کی مدلل اور رواں گفتگو نے شرکاء کے دل جیت لئے اور تقریب کو پُراثر بنا دیا۔ تقریب میں مختلف تعلیمی، سماجی، اور ادبی شخصیات کے علاوہ مقامی اساتذہ، طلباء اور سماجی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پروگرام کے اختتام پر سر سید احمد خان کی روح کے ایصال ثواب کے لئے خصوصی دعاء کی گئی اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ سر سید کی تعلیمی تحریک کو فروغ دینا اور مسلمانوں میں جدید تعلیم کا رجحان بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ قوم کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔ تقریب کے اختتام پر مائناریٹی ڈیولپمنٹ فورم کے ذمہ داران نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ آئندہ بھی اس طرح کے علمی و ادبی پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ اس موقع پر محمد نوید حسن ڈائریکٹر “السبیل اکیڈمی ارریہ، دیوندر مشرا، شیام لال یادو، سید شمیم انور، رضی احمد، فضل الرحمن، عابد انور، جمشید عالم، ماسٹر رئیس الدین، توصیف انور اور انیس الرحمن وغیرہ موجود تھے آخر میں ناظم تقریب ایڈوکیٹ زیڈ اے مجاہد نے طرزِ علی گڑھ میں تمام مہمانانِ گرامی کے لئے ممنونیت اور مشکوریت کا اظہار کیا جبکہ ترانۂ علی گڑھ یہ میرا چمن ہے ، میرا چمن۔ میں اپنے چمن کا بلبل ہوں۔ جو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گا۔ گایا گیا تو سرسید احمد خاں اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی یادیں تازہ ہوگئیں اور سارے ناظرین کی آنکھیں نمناک ہوگئی۔

