تاثیر ۷ اکتوبر ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی الیکشن میں ووٹ مانگنے والوں سے عوام یہ سوال کر ے کہ ریاست میں امن وامان کو بحال کیا جائے اور نفرتی عناصر پر کارروائی کی جائے چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے امیدوار ہو۔ مہاوکاس اگھاڑی کو سیکولر پارٹیوں کے ساتھ مل کرالیکشن میں حصہ لینا چاہئے تبھی ریاست میں اسے کامیابی نصیب ہوگی اس کیلئے بڑی پارٹیوں کو اپنی انانیت کوچھوڑ کراپنی حلیف پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کر کے انتخابی میدان میں اترنا چاہئے سماجوادی پارٹی نے 12 نشستوں کی پیشکش کی ہے جبکہ ہمیں امید ہے کہ مہاوکاس اگھاڑی سے انتخابی مفاہمت ہوگی اس قسم کا اظہار خیالات آج یہاں سماجوادی پارٹی لیڈر ور کن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات خراب ہے ہر طرف نفرت کا ماحول ہے ایسے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا قیام ضروری ہے موہن بھاگوت کے ہندو راشٹر کے بیان پر ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ یہ ملک سیکولر ہے اور اس ملک میں ہندو مسلمان, سکھ عیسائی مل جل کر رہتے ہیں یہی اس ملک کی خوبصورتی ہے اس لئے اس اتحاد کوئی بھی ختم نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ موہن بھاگوت اپنے متضاد بیان دینے میں معروف ہے کبھی وہ اس ملک میں اتحاد کی بات کر تے ہیں تو کبھی ہندوؤں کو بلا ذات برادری متحد ہونے کی درخواست کرتے ہیں وہ یہ نہیں کہتے کہ تمام ہندوستانیوں کو متحد رہنا چاہئے۔
اعظمی نے کہا کہ مہاراشٹر اور ملک میں نفرتی ماحول عام ہے ہندوؤں اور مسلمانوں می نفرت پیدا کرنے کی سازش کی جارہی ہے جس طرح سے لاتور میں مسلم کنبہ کو صرف اس لئے سڑک پر ٹکر مار کر اڑایا گیا کیونکہ اس کی گاڑی سے ٹھوکر لگ گئی تھی اس نے اس کیلئے معذرت کر لی لیکن پھر بھی اسے گالی گلوج دی گئی اور پھر10 کلو میٹر کے فاصلہ پر اپنے کنبہ کے ساتھ سفر کر نے والے کو ٹکر مار کر شدید طور سے زخمی کردیا جس میں دو افراد کی موت واقع ہوگئی۔
گوونڈی میں احتجاجی مظاہرین پر کیس درج کئے جانے پر اعظمی نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے سخت لہجہ میں کہا ہے کہ پولیس بر سر اقتدار پارٹی کے تلوے چاٹتی ہے اگر کوئی احتجاج کرتا ہے تو اس کے خلاف کیس درج کئے جاتے ہیں جبکہ اگر کوئی دوسرا لیڈر ہو تواس کے خلاف نفرتی بیان کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی یہ پولیس کا دوہرا معیار اور دوہرا رویہ ہے ایسے میں پولیس کو بھی ابوعاصم اعظمی نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مزید کہاکہ نفرتی لیڈران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اگر کوئی توہین رسالت یا اہم اشخاص کی شان میں گستاخی کر تا ہے تو اسے یو اے پی اے ایکٹ اور دہشت گردی کے کیس میں گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یتی نرسنگھا نند نے توہین رسالت کا ارتکاب کیاتھا جس کے بعد اسے زیر حراست لیا گیا ہے اس پر دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور نقص امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے ایسے عناصر کے خلاف سرکار کو سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ اکھلیش یادو 18اکتوبر کو مالیگاؤں میں خطاب کریں گے اس کے بعد دھولیہ میں میٹنگ ہوگی یہ دو نشستیں بھی مہا وکاس اگھاڑی سے ہم نے طلب کی ہے۔

