تاثیر 10 اکتوبر ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
اِن دنوں ہر جگہ شاردیہ نوراتری یعنی درگا پوجا مہوتسو کی دھوم ہے۔ نوراتری کے بعد دسہر ہ کا جشن منایا جاتا ہے۔ سناتن دھرم میں دسہرہ کی خاص اہمیت ہے۔ ہر سال دسہرہ کا تہوار اشوِن مہینے کے شکل پکش کی دسویں تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ دسہرہ کے تہوار کو جھوٹ پر سچ کی جیت کی علامت مانا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اسی دن بھگوان شری رام نے راون کو مارا تھا۔سناتن دھرم کے مطابق ا س دن دیوی درگا نے ظالم راکشس مہیشاسور کو مار ڈالا تھا۔ اِس سال وجے دشمی کا تہوار کل 12 اکتوبر کو منایا جائے گا۔آج نورارتی کا آخری دن ہے۔ اس تہوار کا اختتام 13 اکتوپر کو، درگا مورتی ویسرجن کے ساتھ ہوگا۔ نوراتری کے دنوں کے بارے میں سناتن دھرم کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ دن اس بات کی نمائندگی کرتے ہیں کہ بری توانائی کو ختم کرنا ہے۔ مثبت توانائی ہمیشہ انہیں مار دیتی ہے اور کائنات میں راستبازی اور امن قائم کرتی ہے۔نوراتری کا تہوار اس شدید لڑائی کو یاد کرنے کے لیے منایا جاتا ہے، جو دیوی درگا کی مہیشاسور کے ساتھ بھینس کی شکل میں ہوئی تھی اور عقیدت مندوں کو یہ سبق دیا تھا کہ کبھی بھی منفی توانائیوں کے شکار نہیں ہوں۔ در اصل یہ دن دیوی درگا کی تعظیم کے لیے منائے جاتے ہیں۔آج اور کل رات ، جگہ جگہ بنے پنڈالوں میں دیوی درگا کے بنائے گئے مجسمے کی جشن آمیز پوجا ہوگی۔رات بھر ہر طرف خوب چہل پہل رہے گی۔
شاردیہ درگا پوجا کی مذہبی اہمیت دیوی ’’مہیشاسور مَردنی ‘‘ کے روپ سے جڑی ہوئی ہے۔ پرانوں کے مطابق مہیشاسور نامی ایک راکشس نے اپنی طاقت اور تکبر سے دیوتاؤں کو شکست دے کر آسمان پر قبضہ کر لیا تھا۔ دیوتاؤں کی مدد کے لئے، بھگوان برہما، وشنو اور مہیش نے اپنی اپنی طاقتوں کو ملا کر دیوی درگا کی تخلیق کی۔ دیوی درگا نے مہیشاسور سے 10 دن تک جنگ کی اور بالآخر اسے شکست دی۔ دیوی درگا کی اسی فتح کی علامت کے طور پر ہر سال اس تہوار کو منایا جاتا ہے۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ سچائی، راستبازی اور انصاف کی ہمیشہ فتح ہوتی ہے، چاہے برائی کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔مانا جاتا ہے کہ درگا پوجا ہماری زندگیوں میں طاقت، ہمت اور خود اعتمادی کا پیغام دیتی ہے۔ دیوی درگا کی شکل ایک مثالی عورت کی طاقت کی علامت ہے، جو ہمیں سکھاتی ہے کہ خواتین کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے اور برائی کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس تہوار کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کا پیغام بھی معاشرے میں گہرائی سے پھیلتا ہے۔
درگا پوجا کے دوران مختلف رسومات اور روایات کی پیروی کی جاتی ہے، جو جشن کو مزید رنگین اور پرمسرت بناتی ہیں۔ پوجا کے اہم دن نوراتری کے چھٹے دن یعنی ششٹھی سے شروع ہوتے ہیں۔ اس دن دیوی درگا کی مورتی نصب کی جاتی ہے اور رسمی پوجا کا آغاز اسی دن ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد سپتمی، اشٹمی اور نومی کے دنوں میں خصوصی پوجا، ہون اور آرتی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان دنوں کے دوران، دیوی درگا کی مختلف شکلوں کی پوجا کی جاتی ہے، جو ان کی طاقت، شفقت اور بہادری کی علامت ہوتی ہے۔ اشٹمی کے دن ’’کماری پوجا‘‘ کی خاص اہمیت ہے۔ اس میں چھوٹی لڑکیوں کو دیوی درگا کا روپ سمجھ کر ان کی پوجا کی جاتی ہے۔ یہ رسم خواتین کی عزت و تکریم کی علامت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مہاگوری دیوی کی پوجا اشٹمی کے دن کی جاتی ہے، مانا جاتا ہے کہ وہ زندگی میں پاکیزگی اور سکون لاتی ہیں۔ نومی کے دن، ماں درگا کی الوداعی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ اس دن، ہون اور خصوصی پوجا کے بعد، دشمی کے دن مورتیوں کو وسرجت یعنی غرقاب کر دیا جاتا ہے۔اس کرم کانڈ کو زندگی اور موت کے چکر کی علامت کے طور پر انجام دیا جاتا ہے۔
درگا پوجا کا سب سے بڑا جشن مغربی بنگال میں منایا جاتاہے۔ وہاں یہ نہ صرف مذہبی تہوار ہے، ایک سماجی اور ثقافتی وقار کی علامت بھی ہے۔ اس دوران کولکتہ اور بنگال کے دیگر شہروں میں ہر سال کی طرح اس سال بھی سینکڑوں پنڈال سجائے گئے ہیں۔ بہار کی راجدھانہ پٹنہ اور دوسرے تمام شہروں میں بھی دیوی درگا کی بڑی بڑی اور خوبصورت مورتیاں نصب کی گئی ہیں۔ پوجا پنڈال کی شوکت دیکھتے ہی بنتی ہے۔ہر پنڈال کی اپنی ایک خاصیت ہے۔پنڈالوں کو منفرد انداز میں سجایا گیا ہے۔ ان کی سجاوٹ میں مقامی فنون اور دستکاری اور ثقافت کی جھلک نظر آتی ہے۔ درگا پوجا صرف ایک مذہبی رسم نہیں ہے، بلکہ یہ بھارتی معاشرے کی ثقافتی اور سماجی زندگی کا بھی ایک لازمی حصہ ہے۔ اس تہوار کے ذریعے لوگ اپنی روایات اور اقدار کا احترام کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر مذہب اور ثقافت کا جشن مناتے ہیں۔ درگا پوجا پنڈال میں تمام ذات، مذاہب اور لوگ شرکت کرتے ہیں۔لوگ جوق در جوق پنڈالوں میں پہنچتے ہیں اور باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ درگا پوجا کے دوران مختلف سماجی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس تہوار کے دوران خون کا عطیہ کیمپ، مفت میڈیکل چیک اپ اور سماجی بیداری کے پروگرام جیسی سرگرمیاں خاص طور پر منعقد کی جاتی ہیں۔ ان کے ذریعے معاشرے کو بااختیار بنانے اور کمزور طبقات کی مدد کرنے کا پیغام دیا جاتا ہے۔ درگا پوجا کا یہ سماجی پہلو اس تہوار کو اور بھی اہمیت دیتا ہے۔ الغرض یہ تہوار صرف چند مذہبی رسومات تک محدود نہیں ہے۔ یہ بھارتی معاشرہ کو خود اعتمادی، ہمت، خواتین کو بااختیار بنانے اور برائی پر اچھائی کی فتح کا پیغام دیتا ہے۔ معاشرے میں اتحاد، تعاون اور خیر سگالی کو پھیلاتے ہوئے یہ تہوار ہماری ثقافت، روایات اور اقدار کو مضبوط کرتا ہے۔بہر حال آج ہر طرف دُرگا پوجا مہوتسوکی دھوم ہے۔
****

