بہار میں سیلاب سے بچاؤ کے مستقل حل کے لیے بنایا گیا روڈ میپ

تاثیر  19  اکتوبر ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

چھپرہ (نقیب احمد)
شمالی بہار میں سیلاب کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے آبی وسائل کی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔نئی دہلی کے پارلیمانی انیکسی میں منعقدہ میٹنگ کی صدارت سارن کے ایم پی اور سابق مرکزی وزیر راجیو پرتاپ روڈی نے کی۔میٹنگ میں ملک میں سیلاب کے سنگین مسئلے اور نیپال اور بھوٹان سے آنے والے پانی و مختلف ندیوں میں گاد کے جمنے کے ساتھ کوسی-میچی دریا کو جوڑنے کے منصوبے پر سنجیدہ بات چیت کی گئی۔اس سلسلے میں روڈی نے کہا کہ میٹنگ میں ملک کے 3000 سے زیادہ چھوٹے اور بڑے ڈیموں کی حفاظت،اویرل گنگا پروجیکٹ،پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا وغیرہ پر گہری بات چیت ہوئی۔میٹنگ میں موجود راجیہ سبھا ایم پی سنجے کمار جھا نے شمالی بہار میں سیلاب کے طویل المدتی حل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس سال نیپال سے آنے والے کوسی،گنڈک اور باگمتی ندیوں میں ریکارڈ پانی کے بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے سیلاب سے بچاؤ کے لیے ریاست کے پشتوں کو مضبوط کرنے،نئے بیراجوں کی تعمیر،بڑی ندیوں سے گاد کی صفائی اور آبپاشی کے اہم منصوبوں کی بحالی اور لائننگ کا مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ کوسی ندی کے سیلاب کے واقعات کو کم کرنے کے لیے کوسی ندی کے اضافی پانی کو میچی کوسی ندی پراجیکٹ کے ذریعے میچی ندی تک پہنچانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔صدر مسٹر روڈی نے نمامی گنگا،آبپاشی پروجیکٹ اور منریگا وغیرہ جیسی اسکیموں پر عمل آوری کے لیے روڈ میپ بنانے کی ہدایت دی۔رپورٹ پیش کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ نمامی گنگے پروجیکٹ کے تحت اس مالی سال کا تخمینہ بجٹ 3346 کروڑ روپے ہے۔جو گزشتہ مالی سال سے ایک ہزار کروڑ روپے زیادہ ہے۔اسی طرح کسانوں کے مفاد میں وزیر اعظم زرعی آبپاشی اسکیم پر تخمینہ 2500 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔جو پچھلے مالی سال کے مقابلے تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے زیادہ ہے۔اس پروجیکٹ کے تحت کل 99 اسکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ جن میں سے 62 کا کام مکمل ہو چکا ہے۔جناب روڈی نے کام کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔میٹنگ میں اس کمیٹی میں شامل ممبران پارلیمنٹ دلیپ سائکیا،سنجنا جاٹاو،وشال پاٹل،دھرم شیلا گپتا،سیما دویدی،ساگر ایشور کھنڈرے،روڈمل ناگر،پرتاپ چند سارنگی،نارائن داس اہیروار،فیاض احمد وغیرہ شامل تھے۔