تاثیر 8 دسمبر ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ہریانہ اور مہاراشٹر میں انڈیا بلاک کی کراری شکست کے بعد اپوزیشن کیمپ میں کھلبلی سی مچی ہوئی ہے۔ کانگریس اندر ہی اندر اپنی تمام حلیف جماعتوں کے نشانے پر ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اس کی قیادت پر اب کسی کو بھروسہ ہی نہیں رہ گیا ہے۔ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تو کھل کر اپنی بات کہہ دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا بلاک کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ ایک نیو ز چینل کو دئے گئے انٹرویو میں ممتا نے یہ بھی کہا ہے’’ میں نے انڈیا بلاک بنایا تھا۔ اب اسے سنبھالنے کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے ،جو اس کی قیادت کر رہے ہیں۔ اگر وہ اسے نہیں چلا سکتے تو میں کیا کر سکتی ہوں؟ میں تو صرف اتنا ہی کہوں گی کہ سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا۔‘‘ ممتا بنرجی کے اس بیان کو کانگریس سے ان کی ناراضگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔حالانکہ پارلیمنٹ کی کارروائی کو لیکراپوزیشن اتحادمیں تو پہلے سے ہی انتشار دیکھا جا رہا ہے۔ ممتا بنرجی کے اس بیان کے بعد سے یہ مانا جانے لگا ہے کہ اپوزیشن اتحاد اب صرف نام کا رہ گیا ہے۔ سب کی زبان پر یہی ہےکہ لوک سبھا انتخابات میں انڈیا بلاک نے بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو سخت چیلنج دیا تھا۔ لیکن، اس کے بعد کے اسمبلی انتخابات نے کانگریس قیادت کی پول کھول کر رکھ دی۔ یہی وجہ ہے کہ 25 نومبر سے شروع لوک سبھا کے سرمائی اجلاس کے دوران ٹی ایم سی نے اڈانی کے معاملے پر اپناالگ موقف اختیار کر لیا ہے۔ ٹی ایم سی قائدین پارلیمنٹ میں بحث میں حصہ لینا چاہتے ہیں جبکہ کانگریس احتجاج جاری رکھنا چاہتی ہے۔
چند سیاسی مبصرین یہ بھی مانتے ہیں کہ ممتا بنرجی نے انڈیا بلاک کی قیادت خود سنبھالنے کی بات کہہ کر در اصل اپوزیشن اتحاد سے کنارہ کشی کے لئے جواز پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔نتیش کمار کی طرح ممتا بنرجی بھی پوری طرح سے اپوزیشن اتحاد’’ انڈیا‘‘ سے الگ ہوجانا چاہتی ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ کانگریس ٹی، ایم سی کی قیادت کو قبول نہیں کرے گی اور اس طرح ان کے باہر نکلنے کا راستہ خود بخود ہموار ہو جائے گا۔ ویسے حسب توقع کانگریس لیڈر عمران مسعود نے ممتا بنرجی کے دعوے کو مسترد بھی کر دیا ہے۔ عمران مسعود کا کہنا ہے کہ آل انڈیا لیول کی پارٹی ہونے کی وجہ سے کانگریس لیڈر راہل گاندھی ہی اس اتحاد کے فطری لیڈر ہیں۔مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رسّہ کشی کے ابتدائی مرحلے میں شیو سینا( یو بی ٹی) لیڈر سنجے راوت نے کانگریس کا ساتھ دیا ہے تو سماجوادی پارٹی کے ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہے۔ مہاراشٹرا کے ایس پی لیڈر ابو اعظمی نے تو یہاںتک کہہ دیا ہے کہ وہ اکھلیش یادو سے اپیل کریں گے کہ اپوزیشن اتحاد سے پارٹی کو الگ کر لیا جائے۔
یہ حقیقت بھی ہے کہ بی جے پی کو روکنا تو دور کی بات ہے، انڈیا الائنس سے وابستہ جماعتیں خود متحد نہیں ہو پا رہی ہیں۔ انڈیا اتحاد کے قیام کے بعد لوک سبھا انتخابات کے علاوہ کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ، مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، ہریانہ، جموں و کشمیر، اروناچل پردیش، سکم، اوڈیشہ، مہاراشٹر اور، جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات میں کانگریس تین ریاستوں میں براہ راست اقتدار میں واپس آئی جبکہ اس نے جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر میں انڈیا بلاک کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ ہریانہ میں کانگریس ، انڈیا اتحاد سے الگ ہوکر میدان میں اتری تھی۔ مہاراشٹر میں بھی ایم وی اے یعنی انڈیا اتحاد کی شرمناک شکست ہوئی ہے۔ این ڈی اے کو 9 ریاستوں میں کامیابی ملی ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں انڈیا اتحاد کو تھوڑا سر اٹھانے کا موقع ضرور ملا تھا ، لیکن ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں انڈیا اتحاد چاروں خانے چت ہو گیا۔ یعنی بی جے پی بڑی ریاستوں میں جیت کا رکارڈ بناتی جا رہی ہے اور انڈیا اتحاد اس کے سامنے دور دور تک کہیں کھڑا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔
کانگریس کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ صرف انھیں ریاستوں میں علاقائی پارٹیوں کے ساتھ الیکشن لڑتی ہے، جہاں وہ کمزور ہے۔ جموں و کشمیر، مہاراشٹراور جھارکھنڈ میں اس نے انڈیا الائنس کی جماعتوں کے ساتھ الیکشن لڑا۔ ایم پی، راجستھان، چھتیس گڑھ، کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ، ہریانہ اور ہماچل میں کسی اور پارٹی کو جیتنے کا موقع دینا اسے گوارہ نہیں ہے۔ہریانہ میں کانگریس نے آپ کو آخری وقت میں جھٹکا دیا۔ اسی طرح مہاراشٹر میں اکھلیش اپنی پارٹی کے لیے 10 سیٹیں مانگتے رہے، لیکن انھیں دو سیٹیں دی گئیں۔ حالانکہ ایس پی نے پہلے سے ہی یہ دونوں سیٹیں اپنے بل بوتے پر جیتی تھیں۔ یوپی ضمنی انتخابات میں ایس پی نے کانگریس کو ایک سیٹ بھی نہیں دی۔ اب دہلی اسمبلی انتخابات میںانڈیا اتحاد کے دو پارٹنرز عام آدمی پارٹی اور کانگریس الگ الگ الیکشن لڑنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ کانگریس بہار میں اتحاد کے ساتھ جائے گی کیونکہ اسے وہاں آر جے ڈی کی حمایت سے الیکشن لڑنا ہے۔ رہی بات مغربی بنگال اسمبلی انتخابات ، 2026 کی تو اس سے پہلے ہی ممتا بنرجی اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کی قیادت کے تئیں اپنی خواہش ظاہر کرکے یا یوں کہیں کہ انڈیا بلاک کے طریقۂ کار پر سوال اٹھا کر کانگریس کو سخت پیغام دے چکی ہیں۔ اگر اتحاد میں شامل پارٹیاں آنے والے دو انتخابات (دہلی اور بہار) میںکچھ بہتر نہیں کر پاتی ہیں تو ظاہر ہے اس کا اثر بنگال میں بھی نظر آئے گا۔ایسے میں ماہرین کا یہ کہنا کہ انڈیا بلاک میں قیادت کا دعویٰ کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے پہلے ہی اتحاد سے باہر ہونے کا راستہ ہموار کر لیا ہے، بہت حد تک درست ہے۔ سچی بات یہی ہے کہ ممتا بنرجی بنگال میں کانگریس کے ساتھ الیکشن نہیں لڑنا چاہتی ہیں۔ ان کو شاید یقین ہے کہ بی جے پی سے پورے دم خم کے ساتھ مقابلہ وہ اکیلی ہی کر سکتی ہیں۔ ممتا بنرجی نے بھی پچھلے لوک سبھا انتخابات کے نتائج سے یہ سبق سیکھا ہے کہ جیت کے لیے کانگریس کو ساتھ رکھنا ضروری نہیں ہے۔ ممتا سے پہلے سی پی آئی بھی کانگریس کے طریقوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر چکی ہے۔سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ گزشتہ ہفتے یہ کہہ چکے ہیں کہ بائیں بازو کی جماعتوں کو اپوزیشن اتحاد میں سیٹوں کی تقسیم میں مناسب جگہ نہیں دی جارہی ہے۔ ڈی راجہ گرچہ ممتا بنرجی کے بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرنا چاہتے، لیکن ان کی باڈی لینگویج سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ کانگریس کو اپنے عمل کے احتساب کا صحیح وقت آ گیا ہے۔

