تاثیر 27 فروری ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرتاً اجتماعیت پسند پیدا کیا ہے۔ انسان اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے معاشرےکا محتاج ہے۔ سماجی زندگی میں افراد کے درمیان تعاون اور معاہدات ناگزیر ہیں۔ ایک مستحکم اور مثالی معاشرہ نظریہ، سیاست اور معیشت کی بنیاد پر تشکیل پاتا ہے۔ نظریہ زندگی کی سمت کا تعین کرتا ہے، سیاست انسانی حقوق کا تحفظ کرتی ہے اور معیشت مادی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ قرآن کریم انہی بنیادوں پر مثالی اور غیر مثالی معاشرے کا فرق واضح کرتا ہے۔
قرآنی تعلیمات کے مطابق ایک مثالی معاشرہ وحدتِ انسانیت کے اصول پر قائم ہوتا ہے۔ سورۃ الحجرات میں تمام انسانوں کو ایک ماں باپ کی اولاد قرار دیا گیا ہے، جو انسانی مساوات اور اتحاد کا پیغام دیتا ہے۔ اس کے برعکس، فرقہ واریت اور انسانی تفریق غیر مثالی معاشرت کی علامت ہے۔ سورۃ القصص میں فرعون کی سیاست کا ذکر ملتا ہے، جس نے لوگوں کو فرقوں میں تقسیم کرکے استحصال کیا۔ اسی طرح سورۃ الروم میں تفرقے کو گمراہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اگر معاشرے کی بنیاد انسانی اتحاد پر نہ ہو تو وہ صرف ایک ہجوم ہوگا، جس میں انتشار اور باہمی دشمنی پروان چڑھتی ہے۔ اسی طرح اسلامی تعلیمات کے مطابق سیاست عوام کی فلاح و بہبود پر مبنی ہونی چاہیے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کہتے ہیں کہ سیاست کا مقصد حکومت اور عوام کے درمیان معاہدات کی درستگی ہے۔ قرآن جمہوریت اور شورائیت کو سیاسی استحکام کے لیے لازمی قرار دیتا ہے۔ سورۃ القریش میں امن کی سیاست کو اللہ کی نعمت کہا گیا ہے۔ سورۃ القصص میں کمزور افراد کو طاقتور بنانے اور سورۃ النور میں خوف کی سیاست کو امن میں بدلنے کی خوشخبری دی گئی ہے۔ دوسری طرف، سورۃ النحل میں غیر مثالی معاشرے کی نشاندہی کی گئی ہے، جو سیاسی بدامنی اور خوف کی گرفت میں ہوتا ہے۔ جب حکمران ظلم و استبداد کا راستہ اپناتے ہیں تو معاشرہ تباہی کی طرف بڑھتا ہے۔ سورۃ القصص میں فرعون کی سیاست کی مثال دی گئی ہے، جو قتل و غارتگری اور فساد کے ذریعے اپنے اقتدار کو قائم رکھتا تھا۔اسی طرح معاشی استحکام ایک مثالی معاشرے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کا نظام معیشت انسان کی مادی اور روحانی ترقی دونوں کا احاطہ کرتا ہے۔ دینی معاشرہ نہ صرف مادی ضروریات کی تکمیل کا انتظام کرتا ہے بلکہ اخلاقی ترقی کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ مثالی معیشت وہی ہوگی جو معاشرے میں رزق کی وسعت اور معیشت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔ قرآن کریم کے مطابق غیر مثالی معیشت وہ ہے، جہاں دولت چند ہاتھوں میں مرکوز ہو اور عوام غربت اور بھوک کا شکار ہوں۔ سورۃ النحل میں ایک ایسے معاشرے کا ذکر ہے، جہاں کفرانِ نعمت کی وجہ سے قحط اور بھوک مسلط کر دی جاتی ہے۔ قرآنی اصول کے مطابق، ایک مثالی معیشت وہی ہوگی جو اجتماعی فلاح کے اصولوں پر استوار ہو اور جس میں ہر فرد کو مساوی مواقع ملیں۔
المختصر، ماہ رمضان جو عنقریب ہی ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اس مہنے میں گھر سے لے کر مسجدوں تک کی رونقوں میں اضافہ ہونے ولاہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ مہینہ رحمت، مغفرت اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے شمار انعامات نازل فرماتا ہے۔ اس مبارک مہینے کا استقبال شایان شان ڈھنگ سے کرنے اوراس کے فیوض و برکات سے بھرپور استفادہ کے لئے پوری ملت اسلامیہ تیار ہے۔ رمضان کی آمد سے قبل ہم اپنی نیتوں کو خالص کرکے دل میں عبادت کا شوق لئےبیٹھے ہیں۔ہمیں معلوم ہے کہ سب سے پہلے، توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے تاکہ ہم پاکیزہ دل کے ساتھ اس مہینے میں داخل ہوں۔ قرآن کریم کی تلاوت اور اس کی سمجھ میں اضافہ کرنا بھی رمضان کی تیاری کا ایک اہم حصہ ہے، کیونکہ یہی وہ مہینہ ہے ،جس میں قرآن نازل ہوا۔اسی قرآن کریم کی تعلیمات کا تقاضہ ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، اس کے تئیں بھی ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس رہے۔ اس حقیقت کا ادراک ہو کہ ایک مثالی معاشرے کی سیاست حقیقی جمہوریت پر مبنی ہوتی ہے،جو عوام کے جان، مال اور عزت کا تحفظ یقینی بناتی ہے، جبکہ ایک غیر مثالی معاشرہ انتشار اور خوف کا شکار ہوتا ہے۔ اسی طرح، مثالی معیشت میں دولت کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے، جب کہ غیر مثالی معیشت میں دولت کا ارتکاز چند افراد کے پاس ہوتا ہے اور عوام فقر و فاقہ کا شکار ہوتے ہیں۔ قرآنی اصولوں کی روشنی میں اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو یقیناَ َ ہم سیاسی عدم استحکام، معاشی بدحالی اور سماجی تفریق کے بنیادی محرکات کو سمجھ سکیں گے۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ ہم ان اسباب کا تجزیہ کریں اور قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ان مسائل کا حل تلاش کریں۔ ایک مسلمان اور ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو مثالی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اور اس کی شروعات رمضان المبارک کی پہلی تاریخ سے ہی کریں او ر اس یقین کے ساتھ کریں کہ اسی میںہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی کی اصل روح مضمرہے۔