تاثیر 07 مارچ ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
ارریہ :- ( مشتاق احمد صدیقی ) ’’دی ونگس فاؤنڈیشن‘‘ اور ’’ڈائنامک انگلش اکیڈمی‘‘ کے زیر اہتمام پانچ کتابوں کی رسم رو نمائی کا انعقاد کیا گیا جن میں ڈاکٹر عادل حیات کی دو کتابوں، اردو اکادمی دہلی سے شائع شدہ مونو گراف ’’اختر انصاری دہلوی‘‘ اور بچوں کی کہانیوں کا مجموعہ ’’سپنوں کا گھر‘‘، ڈاکٹر انوار الحق کا مجموعۂ مضامین ’’نارنگ قراٴت‘‘، ڈاکٹر جاوید حسن کاساہتیہ اکیڈمی سے شائع شدہ پروفیسر محمد اسد الدین کے انگریزی مونو گراف ’’عصمت چغتائی‘‘ کا اردو ترجمہ اور نوید انجم کا مجموعۂ کلام’’نقش رائیگاں‘‘ شامل ہیں۔ اس تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر خالد محمود نے تمام صاحب کتاب کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ عادل حیات کی ادبی کاوشوں کا دائرہ شاعری، تحقیق و تنقید اور ادب اطفال تک پھیلا ہوا ہے۔وہ ہر کام سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ ڈاکٹر انوار الحق کے مضامین کا مجموعہ ’’نارنگ قراٴت‘‘ در اصل پانچ کتابوں کے حوالے سے تجزیاتی نوعیت کے پانچ مضامین پر مشتمل ہے۔ وہ ادب کے نئے رجحانات پر اچھی نظر رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جاوید حسن کا اصل میدان ڈراما اور ترجمہ ہے اور وہ نئی نسل کے باصلاحیت ادیب ہیں۔ صاحب صدر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نوید انجم کی شاعری میں جدت اور ندرت متاثر کن ہیں۔ مہمان خصوصی اور مہاتما گاندھی انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ ماریشس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نازیہ بیگم جافو نے اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر انوار الحق اور ڈاکٹر جاوید حسن میرے بہت ہی اچھے ادبی دوست ہیں اور ان کی یہ کتابیں ادبی دنیا کے لیے بیش قیمت تحفے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پروفیسر شہپر رسول نے کہاکہ اختر انصاری کے فکر و فن پر ڈاکٹر عادل حیات کی گہری نظر ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر انوار الحق کی کتاب ’’نارنگ قراٴت‘‘ کے حوالے سے کہا کہ ان مضامین سے نارنگ فہمی میں مدد ملے گی۔شہپر رسول نے جاوید حسن کو ساہتیہ اکیڈمی جیسے موقر ادارے سے ان کی کتاب شائع ہونے پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ اس کا مطالعہ اہل اردو کے لیے مفید ثابت ہوگا۔ انہوں نے نوید انجم کی شاعری کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک تازہ کار شاعر ہیں چناں چہ ان کی تازگی ایک نوع کی فرحت کا احساس دلاتی ہے۔ پروفیسر احمد محفوظ نے ان پانچوں کتابوں پر فرداً فرداً اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے تہنیت پیش کی۔ پروفیسر تسنیم فاطمہ نے ان کتابوں کی اشاعت پر دلی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کتابوں کے مصنفین مجھے بے حد عزیز ہیں اور مستقبل میں ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ ایک ہی جلسے میں پانچ کتابوں کا اجرا، کتابوں کے جشن سے کم نہیں ہے۔ ان پانچوں کتابوں کا تعلق ادب کی مختلف اصناف سے ہے اور اسی کی مناسبت سے مہمانان کا انتخاب بھی ہوا ہے۔ ان کتابوں کا تعلق تحقیق، تنقید، ادب اطفال، ترجمہ اور شاعری سے ہے۔ اس پروگرام کا دوسرا حصہ شعری نشست پر مشتمل تھا جس کی صدارت پروفیسر شہپر رسول نے کی۔ شعرا میں پروفیسر خالد محمود، پروفیسر احمد محفوظ، سہیل احمد فاروقی، راشد جمال فاروقی، ڈاکٹر احمد تنویر، ڈاکٹر واحد نظیر، ڈاکٹر خالد مبشر، نوید انجم، امتیاز رومی، سفیر صدیقی، خوشبو پروین اور عزیز اختر شامل تھے۔ شعری نشست کی نظامت کے فرائض آصف بلال نے انجام دی۔ پروگرام کا آغاز عبدالرحمٰن کی تلاوت اور اختتام ڈاکٹر انوار الحق کے اظہار تشکر پر ہوا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر انوار الحق، ڈاکٹر خالد مبشر ، ڈاکٹر جاوید حسن اور شبانہ ناز نے مہمانان کی خدمت میں گلدستے سے ان کا استقبال کیا۔