تاثیر 17 مارچ ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد سے بھلا کون واقف نہیں؟ یہ تاریخی شہر، جو کبھی مغل شہنشاہ اورنگ زیب کے نام سے منسوب تھا، اب کچھ دنوں سے چھترپتی سمباجی نگر کہلانے لگا ہے۔ لیکن صرف نام کی تبدیلی پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا ہے، بلکہ خلدآباد میں موجود اورنگ زیب کی سادہ اور معمولی سی قبرکو مسمار کرنے کا مطالبہ بھی شدت اختیار کر تا جا رہا ہے۔
یہ حیرت انگیز حقیقت ہے کہ دیگر مغل بادشاہوں کے لیے عالیشان مقبرے تعمیر کیے گئے، لیکن تقریباً پچاس برس تک بھارت پر حکمرانی کرنے والے اورنگ زیب کی قبر کچی اور کھلے آسمان تلے ہے۔ روایت کے مطابق، اورنگ زیب اپنی زندگی میں اکثر یہاں آتے اور سکون محسوس کرتے تھے۔ موجودہ سنگ مرمر کی جالی اور احاطہ بندی لارڈ کرزن کی فرمائش پر نواب میر عثمان علی خاں نے کروائی تھی۔فرقہ پرست اور فسطائی طاقتیں طویل عرصے سے اورنگ زیب کے خلاف ہندو دشمنی کا بیانیہ گڑھ کر عوامی جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ حال ہی میں ایک پروپیگنڈہ فلم ’چھاوا‘ کے ریلیز ہونے کے بعد یہ مہم مزید تیز ہو گئی ہے۔ اس فلم کے پس منظر میں اورنگ زیب کو سناتن دھرم کا سب سے بڑا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی میں سماج وادی پارٹی کے رکن ابوعاصم اعظمی کے ایک بیان پر جو ہنگامہ برپا کیا گیا، وہ دیکھنے لائق تھا۔ اعظمی نے صرف اتنا کہا تھا کہ اورنگ زیب کے دور میں بھارت سونے کی چڑیا کہلاتا تھا اور اس کی سرحدیں برما اور افغانستان تک تھیں۔ اس بیان پر انھیں شدید دباؤ میں آکر وضاحت دینی پڑی تھی، مگر اس کے باوجود ان پر ایف آئی آر درج کی گئی اور اسمبلی کے اجلاس سے معطل کردیا گیا۔بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مہاراشٹر میں حکمراں بی جے پی حکومت داخلی انتشار کا شکار ہے اور ریاست میں نظم و نسق کی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں ہے، اس لیے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے اورنگ زیب کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، مسلم حکمرانوں کی تاریخی شناخت کو مٹانے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ ان کی یادگاروں کو ختم کیا جا رہا ہے اور تاریخی مقامات کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، دہلی میں دو بی جے پی ارکان پارلیمنٹ نے اپنی کوٹھیوں پر تغلق روڈ کے بجائے وویکانند روڈ لکھ دیا، حالانکہ کسی بھی سڑک کے نام کی تبدیلی کے لیے پہلے میونسپل کارپوریشن کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ اورنگ آباد کا نام بدل کر چھترپتی سمباجی نگر رکھنا بھی اسی مہم کا ایک حصہ ہے۔تاریخی طور پر یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ اورنگ زیب نے اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ انھوں نے اپنے والد شاہجہاں کو قید کیا اور اپنے بھائی داراشکوہ کو اس کے نظریات کی وجہ سے قتل کروایا۔ لیکن ان پر ہندو دشمنی کا الزام تاریخی شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے دور حکومت میں کئی مندروں کو جاگیریں عطا کی گئیں، جس کی تصدیق کئی غیر مسلم مورخین نے کی ہے۔ مشہور مورخ بی این پانڈے اپنی کتاب ’ہندوستان میں قومی یکجہتی کی روایات‘ میں لکھتے ہیں کہ اورنگ زیب نے کئی مندروں کو زمینیں عطا کیں، جن میں سومیشور ناتھ مہادیو مندر، مہاکال مندر اجین، بالاجی مندر چترکوٹ، کاماکھیا مندر گوہاٹی، جین مندر گرنار، دلواڑا مندر آبوا اور گرودوارہ رام رائے دہرہ دون شامل ہیں۔ ان تاریخی حقائق کے باوجود، مخصوص نظریات کے حامل گروہ مسلسل اورنگ زیب کی شبیہ کو مسخ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
بجرنگ دل اور وی ایچ پی کی جانب سے کل سوموار کومہاراشٹر میں زبردست مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ ہماری مہم کا پہلا پڑاؤ ہے۔ اگر ہمارا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا تو بابری مسجد کی طرح اورنگ زیب کی قبر کے خلاف بھی ’کار سیوا‘ کی جائے گی۔ اس انتباہ کی حمایت سادھو سنتوں کے ایک گروہ نے بھی کی ہے ۔چنانچہ مقامی پولیس نے قبر کی حفاظت سخت کر دی ہے۔اس کے علاوہ ایس آر پی کی ایک ٹیم کو بھی وہاں تعینات کر دیا گیا ہے۔قبر تک جانے والےراستوں پر ناکہ بندی کی گئی ہے۔ ڈرون کے ذریعے بھی حالات کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بھارت کے جمہوری و سیکولر تشخص کےلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاریخی شخصیات کو موجودہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک خطرناک رجحان ہے، جو سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بھارت کو اپنی تاریخی وراثت کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا اور ماضی کی شخصیات کو موجودہ تعصبات کی نظر سے دیکھنے کے بجائے، تاریخ کو علمی اور غیر جانبدارانہ تحقیق کی روشنی میں پرکھنا ہوگا۔ ملک کی سالمیت اور بھائی چارے کی فضا برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ’جیو اور جینے دو‘ کے اصول پر عمل کیا جائے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ہر حال میں بر قرار رکھا جائے۔