مساوات اور انصاف کو یقینی بنایا جائے

تاثیر 05  مارچ ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

اپنے ملک کی سپریم کورٹ کا ایک ایسا تبصرہ آیا ہے، جسےکسی مہذب سماج کو بے چین کر دینے والا مانا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کی سنوائی کے دوران یہ موقف اختیار کیا ہے کہ کسی کو ’میاں ٹیاں‘ یا ’پاکستانی‘ کہنا غیر مہذب ہو سکتا ہے، لیکن یہ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف نہیں ہے، اس لئے یہ قابل تعزیر جرم نہیں ہے۔بی وی ناگارتھنا اور ستیش چندر شرما کی بنچ نے گزشتہ منگل (4مارچ) کو مذہبی جذبات کو مبینہ طور پر ٹھیس پہنچائے جانے سے متعلق ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ تبصرہ کیا اور ا س کے ساتھ ایک سبکدوش سرکاری ملازم ہری نندن سنگھ کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے ان کے خلاف نچلی عدالتوں کے فیصلے کو پلٹ دیا۔
سبکدوش سرکاری ملازم ہری نندن سنگھ کے خلاف شکایت جھارکھنڈ کے بوکارو ضلع کے ایک سرکاری دفتر میں مامور ایک اردو مترجم نے درج کرائی تھی۔ شکایت کنندہ نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ جب وہ آر ٹی آئی کی درخواست کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لئے ہری نندن سنگھ سے ملنے گئے، تو انھوں نے اردو مترجم کے مذہب کا حوالہ دے کر ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور نمائندہ سرکاری فرائض کی انجام دہی کو روکنے کےلئے طاقت کا استعمال کیا۔شکایت کنندہ کا یہ بھی الزام تھا کہ ملزم نے ان کے خلاف ’میاں ٹیاں‘ اور’پاکستانی‘ کہہ کر فرقہ وارانہ تبصرے کئے۔شکایت کی بنیاد پر پولیس نے ہری نندن سنگھ کے خلاف تعزیرات ہندکی کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔مقدمے میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا، سرکاری ملازم کو ڈیوٹی ادا کرنے سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال کرنااور نقضِ امن کے ارادے سے کسی کی توہین کرنے جیسی دفعات عائد کی گئی تھیں۔مگر سپریم کورٹ نے ملزم کے خلاف جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مذکورہ تبصرہ کیا اور کہا ’’ ملزم کی جانب سے کوئی ایسا عمل نہیں کیا گیا ،جس سے امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کا خدشہ ہو۔‘‘عدالت نے اپنے تبصرے میں یہ بھی کہا کہ’’ اس بات کا بھی کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ ملزم نے سرکاری ملازم کو ڈیوٹی کی ادائیگی سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال کیا ہے۔‘‘خیال رہے کہ ایک خاص ذہنیت کے سیاسی رہنما ؤںسے لیکر غیر مہذب معاشرے میں پرورش پانے والے بد زبان قسم کے لوگ بھارت میں مسلمانوں کی توہین کرنے کے لیے عام طور پر ’میاں ٹیاں‘ یا ’پاکستا نی ‘ جیسے الفاظ کا استعمال کرتے رہتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے مذکورہ تبصرے کے تناظر میں قابل ذکر ہے کہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ترمیمی ایکٹ، 2015 کی دفعہ 3(1) (ایس) کے تحت ذات سے متعلق الفاظ کہنے پر مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک غیر ضمانتی دفعہ ہے۔ اس دفعہ کے تحت زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید ہو سکتی ہے۔ اس دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرنے کے لئے کسی کے ذریعہ کسی بھی عوامی جگہ پر کسی درج فہرست ذات یا قبیلے کے کسی رکن کے خلاف ذات پات کی بنیاد پر بدسلوکی کرنا کافی ہے۔ ہاں ، ملزم کو اتنا ضرور معلوم ہونا چاہئے کہ وہ جس شخص کے خلاف ذات سے متعلق الفاظ استعمال کر رہا ہے وہ درج فہرست ذات یا قبیلے کا رکن ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں اگر کوئی شخص کسی عوامی مقام پر کسی دوسرے شخص کو’’ احمق‘‘ یا ’’چور ‘‘ بھی کہتا ہے تو یہ توہین یا شرمندگی کا عمل مانا جائے گا۔ اگر یہ الفاظ درج فہرست ذاتوں یا قبائل کے خلاف استعمال کیے جائیں تو اسے ذات پات کا تبصرہ سمجھا جائے گا۔ مارچ ، 2017 کی بات ہے ، جب سپریم کورٹ نے اپنے ایک فصلے کے ذریعہ بھارت کے شہریوں کی آنکھیں کھول دی تھیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے ایک آرڈر میں درج فہرست برادری کی ایک خاتون کی مبینہ توہین کرنے والے ملزم کو دی گئی پیشگی ضمانت کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا ’’ہریجن‘‘ اور ’’دھوبی‘‘ وغیرہ توہین آمیز الفاظ ہیں۔ جسٹس آر کے اگروال اور اے بھوشن کی بنچ کے فیصلے کے مطابق ’’ہریجن‘‘ اور ’’ دھوبی‘‘ وغیرہ کے الفاظ اکثر نام نہاد اعلیٰ ذاتوں کے درمیان توہین، گالی اور تضحیک کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔‘‘ ججوں نے مانا تھا کہ ہمیں اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے ایک بات ہمیشہ اپنے دل و دماغ میں رکھنی چاہئے کہ کسی فرد یا برادری کی توہین نہ کی جائے اور نہ ہی کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جائے۔ سپریم کورٹ کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا تھا، جب بہت سے لوگوں کو یہ بات پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آئی ہوئی تھی کہ اس طرح کے الفاظ کااستعمال توہین آمیز گالیوں کے مترادف ہے۔
واضح ہو کہ آج ملک کے مختلف حصوں اور علاقوں میں ایک خاص ذہنیت کے لوگوں کے ذریعہ عام مسلمانوں کے ساتھ عموماََ کس طر ح کا سلوک کیا جا رہا ہے ، اس سے دنیا واقف ہے۔ ’’سخت ہندوتو وادی ‘‘لوگوں ، جن میں نوجوانوں، جن کی تعداد نسبتاََ زیادہ ہے، کی جانب سے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں تیزی آئی ہے، جس سے خوف کے ماحول میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت یا پھر حکام کی جانب سے ایسے واقعات کی مذمت تک نہیں کی جاتی اور نہ ہی اس پر افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے۔ظاہر ہے4 مارچ کو سپریم کورٹ کے ذریعہ کئے گئے تبصرے کے حوالے سوشل میڈیا سے لیکر سول سوسائٹی تک میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔سیاسی وسماجی ماہرین کا ما کا ماننا ہے کہ ہائی کورٹ کے متعلقہ فیصلے سے ملک میں اقلیتوں کی توہین کرنے والی ذہنیت کا حوصلہ بڑھے گا۔چنانچہ اس فیصلے سے سماجی انصاف اور مساوات کی اہمیت متاثر ہوسکتی ہے۔ایسے میں حکومت اور معاشرے کو چاہئے کہ ایسے مقدمات اور ان کے فیصلوں کو غور سے دیکھا جائے اور مساوات اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن مؤثر اقدامات کئے جائیں ۔
****