تاثیر 04 مارچ ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
مظفرپور:4/ مارچ( نزہت جہاں)
بہار قانون ساز کاؤنسل کے جری، بے باک اور حق گو رکن، قاری صہیب نے بجٹ اجلاس کے دوران اپنی گرجدار آواز میں حکومت بہار سے مطالبہ کیا کہ وہ ملت کے دیرینہ مسائل کو فوری حل کرے اور اردو کے ساتھ برتی جانے والی ناانصافیوں کا سدباب کرے۔ وہ ایوان میں نہ صرف حق گوئی کا پیکر بن کر ابھرے، بلکہ ان کا انداز ایسا تھا کہ گویا اقبال کی روح خود ان کے الفاظ میں بول رہی ہو:نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے،ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔قاری صہیب نے مدارس کے بقایا جات کی فوری ادائیگی، ڈی ای اوز کے ذریعے مدارس سے غیر قانونی رقم وصولی کے خلاف سخت کارروائی، اور اردو مترجمین کی فوری تقرری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اردو مشاورتی کمیٹی کی تشکیل نو اور اسے آئینی اختیارات دینے پر بھی زور دیا تاکہ اردو کے ساتھ ناانصافیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو۔اسی طرح، برسوں سے معطل شدہ بہار اردو اکادمی کی بحالی اور 12 ہزار اردو ٹی ای ٹی کے امیدواروں کے رزلٹ کی فوری اجراء کا بھی پرزور مطالبہ کیا۔ انہوں نے مدرسہ بورڈ کی تشکیل نو اور اس کے چیئرمین کی بحالی کے ساتھ ساتھ اقلیتی کمیشن تشکیل نو کےلئے بھی سوال اٹھایا۔قاری صہیب نے اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت بند پڑے راج بھاشا اعلیٰ سطحی ایوارڈ کے دوبارہ اجرا، تمام تھانوں میں اردو مترجمین کی بحالی، اور سب سے بڑھ کر مظفرپور ضلع کے کٹرہ بلاک کے واقع بندھپورہ گاؤں کے سو سالہ قدیم قبرستان سمیت دیگر قبرستانوں کی زمین پر کھیل کے میدان بنانے کے خلاف فوری کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کے انقلابی انداز نے ایوان میں ایک نئی روح پھونک دی اور ایسا محسوس ہوا جیسے اقبال کے یہ اشعار ان کی زبان سے حقیقت بن کر نکل رہے ہوں:یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم،جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں۔قاری صہیب کی بے باک آواز پر ملت کے اہم شخصیات نے خوشی اور تشکر کا اظہار کیا۔ جامعہ اسلامیہ مظفرپور کے بانی و مہتمم مفتی محمد جمال اکبر مظفرپوری، معروف سماجی کارکن ماسٹر محمد شاہ عالم، اور مدرسہ مجیدیہ رحمانیہ شکری سریا کے بانی و مہتمم حافظ عبدالرحیم رحمانی نے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے اس اقدام کو وقت کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا۔قاری صہیب کے یہ مطالبات صرف الفاظ نہیں، بلکہ ملت کے دل کی دھڑکن اور اس کی بقا کی صدا ہیں۔ اگر حکومت بہار نے ان مطالبات پر فوری عمل نہ کیا، تو یہ صدا ایک گرج میں بدلے گی اور پھر ملت کا ہر فرد یہ کہنے پر مجبور ہوگا:اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو،کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو۔وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت بہار اردو کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو نبھائے اور اس کے حقوق کو بحال کرے، ورنہ یہ تحریک رکنے والی نہیں!