حساس معاملے پر جلد بازی سے گریز ضروری

تاثیر 09  مارچ ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے ہند اور دیگر ملی تنظیموں نے مرکزی حکومت کے مجوزہ وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف 13 مارچ کو جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ احتجاج 10 مارچ کو طے تھا، لیکن کچھ تکنیکی وجوہات کی بنا پر تاریخ میں تبدیلی کی گئی۔ اس احتجاج کو مسلم کمیونٹی کی جانب سے اپنی مذہبی و فلاحی املاک کے تحفظ کے لیے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔دوسری جانب مرکزی حکومت پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں وقف ترمیمی بل کو منظوری دلانے کی تیاری کر رہی ہے، جس پر مسلم کمیونٹی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر تنظیموں کا موقف ہے کہ یہ ترمیم وقف املاک پر حکومتی قبضے کا راستہ ہموار کرے گی اور مسلمانوں کے مذہبی و ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچائے گی۔ اس لیے اس بل کو فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔یہ احتجاج کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی و مذہبی تنظیموں نے پارلیمانی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) کو خطوط لکھے، ان سے ملاقاتیں کیں اور اپنی تشویشات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ، آندھرا پردیش اور بہار کے وزرائے اعلیٰ سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں مسلم کمیونٹی کے اس بل کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اسی سلسلے میں اب 13 مارچ کو جنتر منتر پر ایک بڑے مظاہرے کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں مذہبی و سماجی رہنما، دلت، آدیواسی، او بی سی طبقات کے نمائندے، سکھ و عیسائی مذہبی قائدین، اور عام مسلمانوں کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔ دہلی این سی آر، مغربی اتر پردیش اور میوات کے مسلمانوں سے خاص طور پر اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مظاہرے میں بھرپور شرکت کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ترمیمی بل منظور ہوگیا تو وقف املاک کے تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ یہ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے مذہبی، ثقافتی اور اجتماعی وقار کا سوال ہے۔ لہٰذا، اس کے خلاف ہر ممکن مزاحمت کی جائے گی۔واضح رہے کہ مرکزی کابینہ نے اس متنازع وقف ترمیمی بل میں 14 ترامیم کی منظوری دی ہے۔ اس حوالے سے پروفیسر مجیب الرحمان، جو کہ ’’ہندوستانی مسلمانوں کا سیاسی مستقبل‘‘ کے مصنف ہیں، کا کہنا ہے کہ نجی جائیدادوں کی ملکیت کا تعین آسان ہوتا ہے، لیکن اجتماعی املاک کے معاملے میں انتظامی تبدیلیاں وقت کے ساتھ ساتھ ہوتی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی قانونی حیثیت کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ وقف کا تصور اسلام میں مذہبی یا فلاحی مقاصد کے لیے منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد وقف کرنے سے متعلق ہے، مگر بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریہ کی طرف سے تجویز کردہ اور جے پی سی کی جانب سے منظور شدہ ایک ترمیم کے تحت، زمین وقف کرنے والے کسی بھی فرد کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کم از کم پانچ سال سے اسلام کا پیروکار ہے، جو شاید آسان نہیں ہوگا۔ چنانچہ یہ ترمیم مسلم کمیونٹی کے اندر شدید غم و غصے کا باعث بنی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف وقف کے بنیادی تصور کے خلاف ہے بلکہ مذہبی آزادی میں مداخلت بھی تصور کی جا رہی ہے۔وقف ترمیمی بل کے کچھ ناقدین تسلیم کرتے ہیں کہ بدعنوانی کے خاتمے اور شفافیت کے فروغ کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے، مگر بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بل کے ذریعے حکومت درپردہ قیمتی وقف املاک پر قبضہ جمانے، مسلمانوں کو بے توقیر کرنے اور ان کے فلاحی اداروں کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔چونکہ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ آج 10 مارچ سے 4 اپریل تک جاری رہے گا، اسی دوران حکومت اس بل کو پیش کر کے منظور کرانے کی کوشش کرے گی۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس بل کا مقصد وقف املاک کے انتظامات میں شفافیت پیدا کرنا اور ریاستی وقف بورڈز کی ذمہ داریوں کو مزید واضح کرنا ہے، تاکہ املاک کا بہتر تحفظ اور ترقی ممکن ہو سکے۔ تاہم، مسلم کمیونٹی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس بل کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔13 مارچ کا احتجاج اسی مخالفت کا تسلسل ہے۔ مسلم قائدین اور تنظیموں کے سربراہان کو خدشہ ہے کہ حکومت اس بل کو بجٹ اجلاس کے اسی مرحلے میں منظور کرانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ اس لیے اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ انتہائی دانشمندانہ اور مؤثر قانونی حکمت عملی اپنائے۔اس احتجاج میں نہ صرف ملی تنظیمیں بلکہ دیگر مذہبی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے رہنما بھی شریک ہوں گے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یہ بل محض مسلم کمیونٹی کے خلاف نہیں بلکہ ملک کی اجتماعی فلاح و بہبود پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔چنانچہ حکومت کو اس حساس معاملے پر جلد بازی سے گریز کرنا چاہئے اور تمام فریقین کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا چاہئے۔
*********