سیوان میں پی ایم مودی کا انتخابی پروگرام

تاثیر 20 جون ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

کل 20جون 2025 کو بہار کے ضلع سیوان کے جسولی گاؤں میں منعقد، پی ایم نریندر مودی کی عوامی ریلی نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔یہ پروگرام نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد کا ایک موقع تھا بلکہ بہار اسمبلی انتخابات 2025 کےلئے ایک مضبوط سیاسی پیغام بھی تھا۔ پی ایم مودی نے اپنے خطاب میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس پر سخت تنقید کی، جبکہ این ڈی اے کی کامیابیوںکی دل کھول کر تعریف کی۔ظاہر ہے اس پروگرام کے، بہار کے اسمبلی انتخابات، 2025 پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ اپوزیشن نے اسے محض ایک انتخابی داؤں قرار دیا ہے۔
پی ایم مودی نے اپنے خطاب کا آغاز بھوجپوری زبان میں کیا، جو مقامی عوام سے رابطے کی ایک کامیاب کوشش تھی۔ انہوں نے آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو پر خاندان پروری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاست کا مقصد صرف اپنے خاندان کے مفادات کا تحفظ ہے، جس سے کروڑوں خاندان متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے آر جے ڈی پر بابا صاحب امبیڈکر کے ساتھ بدسلوکی کا الزام بھی عائد کیا اوردعویٰ کیا کہ آر جے ڈی اور کانگریس کے یہاں دلتوں اور پسماندہ طبقات کے لئے کوئی عزت نہیں ہے۔ مودی نے این ڈی اے کے دورِ اقتدار کو ترقی کا دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دہائی میں 25 کروڑ بھارتیوں نے غربت کو شکست دی تھی، جس میں بہار کی نتیش کمار حکومت کا بڑا کردار ہے۔ انہوں نے آر جے ڈی کے دور کو ’’جنگل راج‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہار کے عوام نے اس کا خاتمہ کر دیا۔
مودی نے ترقیاتی منصوبوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہار میں سڑکوں کا جال بچھایا گیا، ڈیڑھ کروڑ گھروں تک پانی پہنچایا گیا، اور چھوٹے شہروں میں اسٹارٹ اپس فروغ پا رہے ہیں۔ انہوں نے ورلڈ بینک کی رپورٹس کا حوالہ دیا، جن میں بھارت کی ترقی کی تعریف کی گئی ہے، اور بہار کو عالمی معیشت کی تیسری بڑی طاقت بننے کے سفر میں اہم شراکت دار قرار دیا۔اس موقع پر، سیوان میں انہوں نے پٹنہ سے گورکھپور کے لیے وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کا افتتاح کیا، چھپرا کی مڑھورا فیکٹری سے ریل انجن کی برآمدات کو ہری جھنڈی دکھائی، اور شہری آواس یوجنا کے تحت 536 کروڑ روپے 53,600 سے زائد مستحقین کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے۔
  سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے لئے پی ایم مودی کی یہ ریلی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ سیوان، جو سیاسی طور پر حساس علاقہ ہے، میں مودی کا پروگرام این ڈی اے کے ووٹ بینک کو متحرک کرنے کی کوشش ہے۔ نتیش کمار اور ڈپٹی سی ایم سمراٹ چودھری کی موجودگی سے اتحاد کی مضبوطی کا پیغام دیا گیا۔ مودی نے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے نتیش حکومت کی کامیابیوں کو اپنے نام سے جوڑا، جو این ڈی اے کے لئے انتخابی فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی ہے۔ انہوں نے غربت کے خاتمے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور بہار کی عالمی شناخت کو ایجنڈے کے طور پر پیش کیا، جو ووٹروں کو اپیل کر سکتا ہے۔تاہم، مودی کا آر جے ڈی اور کانگریس پر حملہ انتخابی ماحول کو پولرائز کر سکتا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو’’جنگل راج‘‘ کی علامت قرار دیا، جو پسماندہ اور دلت ووٹروں کو این ڈی اے کے حق میں لانے کی کوشش ہے۔ لیکن کچھ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ حکمت عملی الٹا بھی پڑ سکتی ہے، کیونکہ آر جے ڈی کا ووٹ بینک، خصوصاً یادو اور مسلم کمیونٹیز، اس سے مزید متحد ہو سکتا ہے۔ مودی کی ریلی سے این ڈی اے کو شہری اور نیم شہری علاقوں میں فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن دیہی علاقوں میں آر جے ڈی کی گرفت کمزور کرنا ایک چیلنج رہے گا۔
اپوزیشن، خصوصاً آر جے ڈی اور کانگریس، نے مودی کی ریلی کو انتخابی ڈرامہ قرار دیا۔ کانگریس نے دعویٰ کیا کہ ریلی میں بھیڑ جمع کرنے کے لئے سرکاری ملازمین اور آنگن واڑی کارکنوں کو زبردستی لایا گیا، جو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ آر جے ڈی نے مودی کے امبیڈکر سے متعلق بیانات کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش قرار دیاہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ مودی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر کے ووٹروں کو راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن بہار میں بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل ابھی حل طلب ہیں۔آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے ماضی میں مودی کے انتخابی وعدوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ امکان ہے کہ وہ اس ریلی کے جواب میں غربت، بے روزگاری، اور سماجی انصاف کے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں گے۔ اپوزیشن یہ بھی الزام لگا سکتی ہے کہ مودی کی ریلی کا مقصد این ڈی اے کے اندرونی اختلافات کو چھپانا ہے، خصوصاً جب نتیش کمار کے سیاسی مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بہر حال سیوان میں مودی کی اس ریلی کو این ڈی اے کے لئے ایک طاقتور انتخابی آغا ز مانا جا رہا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں اور سخت سیاسی بیانات کے ذریعے مودی نے ووٹروں کو متحرک کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ پروگرام بہار اسمبلی انتخابات 2025 میں این ڈی اے کے لئے فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن اپوزیشن کی جوابی حکمت عملی اور دیہی ووٹروں کی رائے اس کا رخ طے کرے گی۔ بہار کی سیاسی بساط پر یہ ریلی ایک اہم چال ہے، لیکن حتمی جیت اس بات پر منحصر ہے کہ ووٹرز ترقی کے وعدوں اور سماجی انصاف کے بیانیے میں سے کسے ترجیح دیتے ہیں۔
************