تاثیر 26 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
لندن،26جولائی:برطانوی پارلیمنٹ کے 220 سے زائد ارکان نے، جن میں درجنوں کا تعلق حکمران لیبر پارٹی سے ہے، جمعے کے روز حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین کو بطورِ ریاست باقاعدہ طور پر تسلیم کرے۔ اس مطالبے سے وزیرِاعظم کیئر سٹارمر پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔یہ مطالبہ نو مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کے دستخط شدہ ایک خط کے ذریعے سامنے آیا۔ یہ خط فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں کے اس اعلان کے ایک دن بعد جاری کیا گیا کہ فرانس رواں سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو با ضابطہ طور پر تسلیم کرے گا۔اگر ایسا ہوا تو فرانس، جی سیون (جی7) ممالک میں پہلا ملک اور اب تک کی سب سے طاقت ور یورپی ریاست ہو گا جو یہ قدم اٹھائے گا… اس پر اسرائیل اور امریکا دونوں نے مذمت کی ہے۔غزہ میں جاری جنگ اور محصور علاقے میں ممکنہ اجتماعی قحط کے خدشات کے باعث کیئر سٹارمر کو اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر فلسطین کو تسلیم کرنے کے مطالبے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔
خط میں 221 برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ نے لکھا ہے کہ “ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ ہفتے کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو با ضابطہ طور پر تسلیم کیا جائے”۔ اس سے مراد 28 اور 29 جولائی کو نیویارک میں ہونے والا وہ اقوامِ متحدہ کا اجلاس ہے، جس کی مشترکہ صدارت فرانس اور سعودی عرب کر رہے ہیں۔اراکین نے کہا ہے کہ “اگرچہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ برطانیہ اکیلا فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں بنا سکتا، لیکن برطانیہ کا با ضابطہ اعتراف ایک اہم علامتی قدم ہو گا”۔

