تاثیر 28 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
ہوڑہ، 28 جولائی (انیس ظفر) گزشتہ روز، 27 جولائی بروز اتوار، بعد نمازِ عشاء، ٹکیہ پاڑہ ہوڑہ میں واقع فخرالدین انصاری کی بلڈنگ کے خوبصورت ہال میں ایک روح پرور اور پُر نور محفل کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس مقدس محفل کا اہتمام فعال ادارہ “بزمِ اہلبیت” اور “معف سائن آف ہیومنیٹی” کے اشتراک سے عرسِ حضرت مخدوم اشرف سمنانی اور حضرت وارثِ عالم پناہ کی مناسبت سے کیا گیا۔
محفل کا آغاز معروف نعت خواں اور بلبلِ گلشنِ دیوہ، ڈاکٹر کمال احمد وارثی نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا، جس کے بعد نعت و منقبت کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس بابرکت محفل میں جناب مخدوم ارشد حبیبی، عبدالرحیم ہلچل، ڈاکٹر کمال احمد وارثی، ایڈوکیٹ ارشد رضا، فخرالدین انصاری، سراج احمد وارثی اور عبدالقیوم وارثی جیسے معروف نعت خواں حضرات نے اپنی پُرسوز آواز اور دلنشیں انداز میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا، جس سے سامعین پر وجدانی کیفیت طاری ہو گئی۔
نقابت کے فرائض ماسٹر یوسف صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ محفل کے دوران صلاۃ و سلام اور فاتحہ خوانی کی گئی۔ اس موقع پر خطیبِ دیوہ حضرت راقم شاہ وارثی کے مرید خاص اور عازمِ عمرہ جناب ذوالفقار وارثی کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ان کی خدمت میں روایتی شانہ زیب، پھولوں کے ہار اور دعاؤں کے تحفے پیش کیے گئے۔
جناب ذوالفقار وارثی نے نمناک آنکھوں سے حاضرین سے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ “آپ حضرات میرے لیے دعا فرماتے رہیں، میں آپ سب کے لیے حرمین شریفین سے دعائیں کرتا رہوں گا۔” اس موقع پر ڈاکٹر کمال احمد وارثی نے ملک کی قومی سلامتی، امتِ مسلمہ کی فلاح و ترقی، خاص طور پر فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ ساتھ ہی معروف شاعر ڈاکٹر سلطان ساحر کی صحت یابی اور بزم اہلبیت کے مؤسس مرحوم کمال الدین انصاری کے لیے ایصالِ ثواب و مغفرت کی دعائیں بھی کی گئیں۔
اختتامِ محفل پر حاضرین کی ضیافت کے لیے پھل، شیرینی اور روایتی خانقاہی لنگر (دال و روٹی) پیش کی گئی۔ اس کامیاب روحانی اجتماع کے انتظام و انصرام میں ادارے کے سکریٹری جناب فخرالدین انصاری کے علاوہ جناب فردوس علی وارثی اور جناب انیس ظفر (اشرف) کی خدمات قابلِ تحسین رہیں۔
محفل میں شریک عقیدت مندوں میں جان عالم قادری، شہنواز چشتی، خورشید وارثی، جاوید اختر اشرفی، شیخ مقدر، محمد جلال الدین (راجہ)، سرفراز احمد اور غلام محمد حبیبی جیسے معزز افراد شامل تھے، جنہوں نے اپنے جذبۂ عشقِ اولیاء سے محفل کو مزید معنویت بخشی۔

