غزہ کے ایک تہائی باشندے کئی دنوں سے کچھ نہیں کھا رہے ہیں: ورلڈ فوڈ پروگرام

تاثیر 26 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

نیویارک،26جولائی:اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے تقریباً ایک تہائی باشندے کئی دنوں سے نہیں کھا رہے ہیں، پروگرام نے خبردار کیا کہ غذائی قلت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔اے ایف پی کے مطابق پروگرام نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں غذائی بحران مایوسی کی بے مثال سطح پر پہنچ گیا ہے اور ہر 3 میں سے 1 فرد کئی دنوں سے نہیں کچھ کھا رہا۔ غذائی قلت مزید بگڑ گئی ہے اور 90,000 سے زیادہ خواتین اور بچوں کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔ اگلے چند ماہ میں 470,000 فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی میں “تباہ کن قحط” کا سامنا ہونے کی توقع ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا کہ انسانی امداد کی کمی کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں۔ غذائی امداد ہی آبادی کے لیے خوراک حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے جب خوراک کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے لیے “انسانیت” اور “ہمدردی” کی کمی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ غزہ کی پٹی نہ صرف ایک انسانی بحران کا شکار ہے بلکہ ایک اخلاقی بحران ہے جو عالمی ضمیر کو چیلنج کر رہا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کو ایک ویڈیو پیغام میں گوتریس نے کہا کہ میں بین الاقوامی برادری میں بہت سے لوگوں کی جانب سے دیکھی جانے والی بے عملی اور بے حسی اور انسانیت کی کمی کی کوئی وضاحت نہیں کر سکتا۔ یہ صرف ایک انسانی بحران نہیں، یہ ایک اخلاقی بحران ہے جو عالمی ضمیر کو چیلنج کر رہا ہے۔ ہم ہر موقع پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔