تاثیر 9 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضا امام)8 جولائی- بہار میں عظیم اتحاد(مہاگٹھ بندھن) کی جانب سے ووٹر لسٹ (انتخابی فہرست) کی نظرثانی کے خلاف “بہار بند” کا اثر دربھنگہ شہر اور ضلع کے دیگر حصوں میں بھی دیکھا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، صبح سے ہی حزب اختلاف کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے اور ٹائر جلا کر شاہراہوں کو جام کر دیا، جس سے آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی۔آئندہ بہار اسمبلی انتخابات 2025 کی تیاریوں کے سلسلے میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ عظیم اتحاد کا دعویٰ ہے کہ اس نظرثانی میں بڑے پیمانے پر خامیاں ہیں جو آئندہ انتخابات کی شفافیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔دربھنگہ میں بھی بند کے حامیوں نے سڑکوں پر احتجاج کیا، جس کے باعث ٹریفک جام ہوگیا اور عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریل ٹریفک بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ سابق مرکزی وزیر محمد علی اشرف فاطمی، ایم ایل اے للت کمار یادو، راشد جمال لہریا سرائے ٹاور پر اجتجاج میں موجود تھے۔علی اشرف فاطمی نے کہا کہ حکومت ہند الیکشن کمیشن کو استعمال کرکے بہار کے کروڑوں غریبوں، دلت، پسماندہ، انتہائی پسماندہ اور اقلیتوں کے حق رائے دہی کو چھیننا چاہتی ہے۔ جناب فاطمی نے کہا کہ الیکشن کمیشن جو دستاویزات مانگ رہا ہے وہ تمام لوگوں کے پاس دستیاب نہیں ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کروڑوں ووٹروں کے نام مٹ جائیں گے اور وہ سرکاری اسکیموں سے بھی محروم رہ سکتے ہیں جو انہیں فراہم کی جارہی ہیں۔ مرکزی حکومت ووٹوں کو تقسیم کرکے الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اقلیتی شعبہ کے قومی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر جمال حسن نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی حکومت کی کٹھ پتلی بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی ڈبل انجن والی حکومت کو خوف ہے کہ وہ آنے والے انتخابات میں اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، اس لیے منصوبہ بند طریقے سے ووٹر لسٹ سے کروڑوں لوگوں کے نام نکالے جا رہے ہیں۔عظیم اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ووٹر لسٹ کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاج جاری رکھیں گے۔

