بہار ا اسمبلی انتخابات اور مسلم رائے دہندگان

تاثیر 11 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار میں، سال 2025 کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریاں اب اپنے عروج پر ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے منگنی لال منڈل کو حال ہی میںپارٹی کے نئے ریاستی صدر کے طور پر نامزد کرکے ایک اہم سیاسی داؤ چلا ہے۔ منگنی لال منڈل انتہائی پسماندہ طبقہ (ای بی سی) سے تعلق رکھتے ہیں۔انھیں پارٹی کا ریاستی صدر بنانے کا مقصد، بہار کی 36 فیصد آبادی کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم، اس بار بہار اسمبلی انتخابات کے محاذ پر مسلم رائے دہندگان کا کردار بھی اہم ہونے والا ہے۔ہار اور جیت کا فیصلہ بہت حد تک مسلم رائے دہندگان کے متحدہ فیصلے پر مبنی ہو گا۔ کیا آر جے ڈی مسلم ووٹرز کو دوبارہ اپنے ساتھ لانے میں کامیاب ہو سکے گا،  یا مسلم رائے دہندگا دیگر پارٹیوں کی طرف بھی مائل ہو سکتے ہیں ؟  آج کی تاریخ میں یہ سوال بہت ہی اہم ہے۔
2020 کے انتخابات میں آر جے ڈی کا روایتی مسلم ۔یادو (ایم وائی) اتحاد ٹوٹ کر بکھر گیا تھا۔گزشتہ متعدد انتخابات کی طرح 2020 میں بھی مسلمانوں نے آر جے ڈی کے یادو امیدواروں کو ووٹ تو دئے تھے، لیکن مسلم امیدواروں کو یادو رائے دہندگان نے کھل کر حمایت نہیں کی تھی۔ بلکہ کہیں کہیں سے تو آر جے ڈی کے علاقائی رہنماؤں کے ذریعہ از راہ مصلحت آر جے ڈی کے مسلم امیدواروں کی کھل کر مخا لفت کی شکایتیں موصول ہوئی تھیں۔چنانچہ پارٹی نے 18 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا، لیکن ان میں سے صرف 9 ہی کامیاب ہو سکے تھے۔جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے مسلم ووٹس کو اپنے اتحاد کے ذریعے متاثر کرنے کی کامیاب حکمت عملی اپنائی تھی۔ نتیش کمار نے اپنی ترقیاتی اور فلاحی پالیسیوں سے سماج کے تمام طبقات کو اپنی (این ڈی اے)کی جانب متوجہ کیا تھا۔ آر جے ڈی نے دس لاکھ نوکریوں کا وعدہ کیا، لیکن اس کا اثر مسلم کمیونٹی پر کچھ خاص نہیں پڑا، کیونکہ’’ ایم وائی‘‘ کے چناوی تانے بانے کی کمزوری نے مسلم ووٹرز کے اعتماد کو کبھی مضبوط نہیں ہونے دیا۔
اِدھر آر جے ڈی کے ریاستی صدر کے طور پر منگنی لال منڈل کی تقرری ای بی سی کو اپنی جانب راغب کرنے کی ایک واضح کوشش ہے، لیکن مسلم ووٹرز کے لئے پارٹی کی پالیسی ابھی تک غیر واضح ہے۔ بہار میں مسلم آبادی، جو تقریباََ 18فیصد ہے، روایتی طور پر آر جے ڈی کے ساتھ جڑی رہی ہے، لیکن 2020 کے نتائج نے کچھ دوسری ہی تصویر پیش کی تھی۔ جے ڈی یو کے ساتھ بی جے پی کا اتحاد، مسلم ووٹوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں اس لئے کامیاب ہو سکا تھا کہ نتیش کمار کا چہرہ ان کے سامنے تھا۔ نتیش کمار نے بہار کے مسلمانوں کے لئے عملی طور پر جو کچھ بھی کیا ہے، اس سے کوئی بھی مسلمان انکار نہیں کر سکتا ہے۔ اگر آر جےڈی کی حمایت درکار ہےتوتیجسوی یادو کو بھی مسلم کمیونٹی کے لئے تعلیمی، معاشی، اور سماجی تحفظ کے واضح منصوبے پیش کرنے ہوں گے، ورنہ وقف قانون ، 2025 اور دیگر مسلم مخالف رجحانات کے باوجود مسلمانوں کا فیصلہ کن ووٹ انھیں نہیں مل سکتا ہے۔
مسلم ووٹرز کا رجحان بہار کی سیاست میں ہمیشہ اہم رہا ہے۔اس بار ان کی ترجیحات تبدیلی کے دہانے پر ہیں۔ 2020 میں آر جے ڈی کے مسلم امیدواروں کی ناکامی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ محض ٹکٹ تقسیم سے کام نہیں چلے گا۔ جے ڈی یو نے مسلم اکثریتی علاقوں میں ترقیاتی کاموں سے اعتماد جیتا ہے، جبکہ بی جے پی کی فلاحی اسکیموں نے بھی ان کی توجہ حاصل کی ہے۔ آر جے ڈی کو اب مسلم نوجوانوں کےلئے نوکریوں، خواتین کے لئے ریزرویشن، دینی مدارس کی بہتری، اور چھوٹے کاروباریوں کی مالی امداد جیسے اقدامات پر توجہ دینی ہوگی۔ اس کے علاوہ، مسلم کمیونٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی،خاص طور پر سیکولر ازم اور سماجی انصاف کے حوالے سے،ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر تیجسوی یادو اسے حل نہ کر سکے، تو منڈل کی قیادت، اس بار بھی ان کامسلم ووٹ بینک کو بچانے میں ناکام رہ سکتی ہے۔
بہر حال بہار کا انتخابی میدان اب ایک دلچسپ معرکہ بننے جا رہا ہے، جہاں مسلم ووٹس کا قدم قدم سیاسی نقشہ بدل سکتا ہے۔ تیجسوی یاد کو اگر منگنی لال منڈل کے ذریعے ای بی سی کو ساتھ ملا نے میں کامیاب ہو بھی گئے، تو اس کے بعد بھی کامیابی کے لئے انھیں مسلم ووٹرز کی حمایت لازمی ہوگی۔ لیکن اگر وہ مسلم کمیونٹی کے دلوں تک رسائی نہ بنا سکے،ان کے مسائل کو سمجھ کر عملی حل پیش نہ کرسکے،تو یہ ووٹس یقینی طور پر جے ڈی یو کی طرف شفٹ ہو سکتا ہے۔بلا شبہہ بہار کی انتخابی کہانی اب ایک سنسنی خیز اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں ہار اور جیت کا فیصلہ دل جیتنے کی صلاحیت پر مبنی ہوگا۔ایسے میں کیا تیجسوی اس امتحان میں کامیاب ہوں گے ؟ ، یا مسلم ووٹرز کا رخ کسی اور طرف ہوگا ؟  اس طرح کےسوالوں کے جواب کے لئے ابھی تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا، کیوں کہ ابھی تصویر پوری طرح سے صاف نہیں ہوسکی ہے۔