بہار انتخابات: ذات اور جمہوریت کا امتحان

تاثیر 12 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

  بہار اسمبلی انتخابات 2025 جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں، سیاسی منظر نامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپنی انتخابی حکمت عملی کو مضبوط کرنے کے لئے متحرک اقدامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ اپوزیشن کا عظیم اتحاد (گرینڈ الائنس) سماجی انصاف، بہاری فخر اور ووٹنگ حقوق کے تحفظ کے نعروں کے ساتھ عوام کو راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دوران، سوہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کے صدر اوم پرکاش راج بھر نے این ڈی اے کے ساتھ مل کر 29 نشستوں پر انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے، جو نہ صرف بہار کی سیاست بلکہ اتر پردیش کی سیاسی داؤ پیچ پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یہ انتخابات بہار کی سیاسی سمت طے کرنے کے ساتھ ساتھ 2029 کے لوک سبھا انتخابات کے لئے ایک اہم امتحان ثابت ہوں گے۔
این ڈی اے کی تیاریوں میں جے ڈی یو اور بی جے پی کے ساتھ چھوٹے اتحادیوں کی شمولیت نمایاں ہے۔ دعویٰ ہےراج بھر کی ایس بی ایس پی نے 28 اضلاع میں اپنی تنظیم کو مضبوط کیا ہے، جن میں گیا، جہان آباد، نوادہ، کٹیہار، بکسر، اورنگ آباد، نالندہ، اور چمپارن جیسے علاقے شامل ہیں۔ ان اضلاع میں پسماندہ طبقات، خاص طور پر راج بھر اور بھر برادری کی موجودگی اہم ہے، جو ووٹوں کی تقسیم میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔ راج بھر کا دعویٰ ہے کہ ان کی پارٹی نے 156 نشستوں پر عوامی رابطہ مہم شروع کی ہے، لیکن 29 نشستوں پر توجہ مرکوز ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ حکمت عملی این ڈی اے کو پسماندہ طبقات کے ووٹ حاصل کرنے میں مدد دے گی، جو روایتی طور پر آر جے ڈی کے ووٹ بینک کا حصہ رہے ہیں۔ راج بھر کی حالیہ دہلی میں وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کو بھی اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں سیٹوں کی تقسیم پر بات چیت ہوئی۔ یہ قدم 2027 کے یوپی اسمبلی انتخابات کے لئے بھی ایک بڑا پیغام ہے، جہاں راج بھر بی جے پی کے ساتھ زیادہ سیٹوں کے لئے سودے بازی کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بہار کے انتخابات صرف ریاستی سطح تک محدود نہیں، بلکہ قومی سیاست پر بھی ان کا اثر ہوگا۔
دوسری جانب، عظیم اتحاد سماجی انصاف، معاشی مساوات اور بہاری شناخت کے ایجنڈے پر زور دے رہا ہے۔ راہل گاندھی اور تیجسوی یادو نے ووٹر لسٹ کے خصوصی عمیق نظر ثانی (ایس ای آر) کو جمہوری حقوق پر لگاتار حملہ کر رہے ہیں۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ عمل دلت، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے ووٹنگ حقوق کو کمزور کرنے کی منظم سازش ہے۔ انہوں نے مہاراشٹرا اور ہریانہ کے حالیہ انتخابات کا حوالہ دیا، جہاں مبینہ طور پر ووٹر لسٹ میں ہیر پھیر سے این ڈی اے کو فائدہ ہوا۔ الیکشن کمیشن اور این ڈی اے اس عمل کو ووٹر لسٹ کی درستگی کے لئے ضروری قرار دیتے ہیں، لیکن شفافیت کی کمی نے تنازع کو ہوا دی ہے۔ سپریم کورٹ میں زیر سماعت درخواستوں میں اس عمل کے وقت اور دستاویزات کے تقاضوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جو مہاجروں، غریبوں اور کمزور طبقات کے لئے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کی خاموشی اور بار بار نوٹیفکیشن میں تبدیلی اس کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھاتی ہے۔ اس تنازع نے بہارکے عوام میں عدم اعتماد کو بڑھاوا دیا ہے، جو اپنے جمہوری حقوق کے تحفظ کےلئے حساس معاملہ ہے۔
بہار کی سیاست میں ذات پات کا گہرا اثر رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں روزگار، ترقی، اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل بھی ووٹروں کے لئے اہم ہو گئے ہیں۔ جے ڈی یو کے سربراہ نتیش کمار ترقیاتی ایجنڈے پر زور دیتے ہیں، جنہوں نے گزشتہ برسوں میں سڑکوں، بجلی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ذریعے اپنی ساکھ بنائی ہے۔ دوسری طرف، آر جے ڈی معاشی و سماجی مساوات کے وعدوں کے ساتھ میدان میں ہے، خاص طور پر دلت، مسلم اور پسماندہ طبقات کو راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پرشانت کشور کی ’جن سوراج‘ جیسے نئے پلیٹ فارم اصلاحات اور شفافیت کی بات کر رہے ہیں، جو خاص طور پر نوجوان ووٹروں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بہار کی 18 فیصد مسلم آبادی اور دلت و پسماندہ طبقات کے ووٹ انتخابی نتائج میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن اب ترقیاتی ایجنڈوں، روزگار کے مواقع اور تعلیم کی بہتری کے وعدوں کی اپیل بھی بڑھ رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں بہار میں بے روزگاری کی شرح اور مہنگائی نے ووٹروں کے مزاج کو متاثر کیا ہے، جو سیاسی جماعتوں کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس بار کے بہار اسمبلی انتخابات این ڈی اے کی استحکام، مہاگٹھ بندھن کی عوامی اپیل، اور سیاست کے میدان کےنئے کھلاڑیوں کی صلاحیت کا امتحان ہیں۔ الیکشن کمیشن پر غیرجانبداری ثابت کرنے کی بھاری ذمہ داری ہے، خاص طور پر ووٹر لسٹ تنازع کے پیش نظر۔ بہارکے 7.89 کروڑ ووٹرس  کےووٹرز اس انتخاب سے نہ صرف اپنی ریاستی قیادت بلکہ قومی سیاست کی سمت بھی طے کریں گے۔ اگر این ڈی اے جیتتا ہے تو یہ نتیش کمار اور بی جے پی کی سیاسی اہمیت کو مضبوط کرے گا، جبکہ مہاگٹھ بندھن کی فتح انڈیا الائنس کو قومی سطح پر نئی توانائی دے گی۔ یہ مقابلہ صرف اقتدار کی لڑائی نہیںہے، بلکہ یہ بہار کی سماجی و معاشی ترجیحات کی عکاسی بھی کرے گا۔ عوام کے سامنے سوال ہے کہ وہ استحکام کو ترجیح دیں گے یا تبدیلی کی طرف جائیں گے۔ اس انتخاب کا فیصلہ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کی سیاسی سمت کو بھی متاثر کرے گا۔
***********************