بہار کی چناوی بساط اور سیاسی حکمت عملی

تاثیر 16 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار اسمبلی انتخابات 2025 سے قبل سیاسی بساط پر چالیں تیزی سے چلی جا رہی ہیں۔اِنھیں چالوںکے درمیان نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے اندرونی تناؤ نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے سربراہ چراغ پاسوان اپنی جارحانہ حکمت عملیوں سے سرخیاں بٹور رہے ہیں۔ اِدھر ان کے جیجا ارون بھارتی نے بھی اپنے ایک سوشل میڈیا تبصرے میں مہابھارت کے ابھیمنیو کا حوالہ دیتے ہوئے ’نئے عزائم‘ کی بات کی ہے۔اس پر جے ڈی یو کے رہنما نیرج کمار نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ نیرج کمار نے طنزاً کہا ہے کہ’ ’ابھیمنیو بننا آسان ہے، لیکن ارجن بننا مشکل، اور تاریخ ضد سے نہیں، کام سے لکھی جاتی ہے۔‘‘  لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) اور جے ڈی یو کے درمیان جاری یہ بیان بازی یہ بتا رہی ہے کہ این ڈی اے میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔
دریں اثنا، پورنیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو، جو خود کو کانگریس کا رکن بتاتے ہیں، نے حالیہ بہار بند کے دوران اپنے مبینہ ’’اپمان‘‘ کے بعد بیان دیا کہ وہ انتخابات میں کسی بھی کردار کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کانگریس کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے عہدےکے لئے راجیش رام اور طارق انور جیسے دلت اور مسلم رہنماؤں کے نام پیش کئے ہیں۔پپو یادو کا کہنا ہے وزیر اعلیٰ کے طور پر اگر ان دونوں رہنماؤں میں سے کسی کا نام سامنے لایا جاتا ہے تو اس سےعظیم اتحاد کو تقویت حاصل ہوگی۔ عظیم اتحاد کے کچھ دوسرے رہنما بھی پپو یادو کی ان حالیہ سرگرمیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ پپو یادو کا ، دہلی میں کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی سے ملنا عظیم اتحاد کے لئے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا، بہار کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لئے دلت اور مسلم چہروں کی تجویز تیجسوی یادو کے اثر و رسوخ کو چیلنج کر سکتی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سیاسی چالیں بہار کے سماجی، معاشی اور دیگر بنیادی مسائل پر حاوی ہو جائیں گی؟
چراغ پاسوان نے’ ’بہار فرسٹ، بہاری فرسٹ‘‘ کے نعرے کے ساتھ اپنی مہم کو تیز کیا ہے۔ انہوں نے بہار، خاص طور پر پٹنہ میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح پر تنقید کی ہے۔پٹنہ کے ایک بڑے تاجرگوپال کھیمکا کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بہار پولیس کی ذمہ داری پر سوال اٹھایا ہے۔ انھوں نے تعلیم کی مبینہ بدحالی پر بھی افسوس کا اظہار کیاہے۔ان کا کہنا ہے کہ نالندہ یونیورسٹی کے وجود پر اپنے سر کو فخر سے اونچا رکھنے والا بہار اب اپنے بچوں کو تعلیم کے لئے دوسرے صوبوں میں بھیجنے پر مجبور ہے۔ چراغ کی، سرکاری ملازمتوں میں ڈومیسائل پالیسی کی حمایت این ڈی اے کے دیگر ارکان سے مختلف ہے اور آر جے ڈی کے ایجنڈے سے مماثلت رکھتی ہے۔ انھوں نے یہ  اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی بہار اسمبلی کی تمام 243 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرے گی ۔چراغ پاسوان کا اپنا سیاسی نظر یہ اور انتخابی رویہ یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ اپنی شرطوں پر این ڈی اے میں رہنا چاہتے ہیں۔ تاہم، جے ڈی یو اسے اتحاد کے اصولوں(گٹھبندھن دھرم) کے منافی سمجھتا ہے، جیسا کہ نیرج کمار کے تبصرے سے واضح ہے۔
اِدھر عظیم اتحاد ،جس کی قیادت راشٹریہ جنتا دل( آر جے ڈی )کر رہا ہے، ووٹر لسٹ کے خصوصی عمیق نظر ثانی (ایس آئی آر) کے خلاف احتجاجوں سے عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عظیم اتحاد کے لیڈر ایس آئی آر کو دلت، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے حق رائے دہی پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ مہاراشٹرا اور ہریانہ کے انتخابات میں ووٹر لسٹ کی ہیر پھیر سے ہی این ڈی اے کو فائدہ ہوا تھا۔ حالانکہ الیکشن کمیشن اس عمل کو شفاف اور غیر جانبدار قرار دیتا ہے۔حالانکہ بہار کے مختلف علاقوں سے ایس آئی آر کے حوالے سے طرح طرح کی مایوس کن خبریں آ رہی ہیں۔
  بہر حال چراغ پاسوان اور پپو یادو کی جارحانہ چناوی حکمت عملی،انھیں نوجوانوں اور پسماندہ طبقات میں مقبول بنا سکتی ہے، لیکن  جیتن رام مانجھی اور جے ڈی یو کے ساتھ چراغ پاسوان کے اختلافات این ڈی اے کے اندر تناؤ پیدا کرکے اتحاد کی ہم آہنگی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔اِدھر بہار کے ووٹر، جو ذات پات اور ترقیاتی ایجنڈوں کے درمیان توازن رکھتے ہیں، اس انتخاب میں فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ چراغ کی تبدیلی کی بات پر یقین رکھتے ہیں یا نتیش کمار کی مستحکم قیادت کو ترجیح دیتے ہیں۔ حالانکہ بہار کے عوامی رجحان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس بار کی انتخابی جنگ اقتدار کی لڑائی سے آگے نکل چکی ہے۔ اس بار انتخابات کے تئیں بہارکا عوامی رجحان معاشی مشکلات، تعلیمی پسماندگی اور سماجی انصاف کے تقاضوں کی جانب بڑھ گیاہے۔
*************