وارانسی میں کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے سمیت 60 کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج

تاثیر 11 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

وارانسی، 11 جولائی: وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں، جمعرات کی شام، کانگریس نے شہر کے زمینی سطح کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ‘پول-کھول پدیاترا’ نکالی۔ اس دوران پانی بھر جانے، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور متاثرہ دکانداروں کے مسائل پر حکومت کو گھیر لیا گیا۔ پد یاترا کے دوران مرکزی سڑک پر ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے سمیت 60 کارکنوں کے خلاف دیر رات سگرا پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔
یہ معاملہ کاشی ودیا پیٹھ چوکی کے انچارج وکاس شانڈیلیا کی شکایت پر درج کیا گیا ہے۔ جن رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ان میں کانگریس کے ضلع صدر راجیشور پٹیل، راگھویندر چوبے، دھرمیندر تیواری، فصاحت حسین، پرمود پانڈے، گلشن علی، ستنام سنگھ، اشوک سنگھ، عقیل انصاری اور 50 نامعلوم کارکن شامل ہیں۔
ریاستی صدر اجے رائے نے کہا کہ کاشی میں جو ترقی دکھائی جا رہی ہے وہ پوری طرح سطحی اور فرضی ہے۔ بی جے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہا، “ڈبل انجن والی حکومت نے کاشی کو تباہی کے راستے پر لا کھڑا کیا ہے۔ مودی-یوگی حکومت کو ترقی کے جھوٹے دعوے کرنا بند کر دینا چاہیے۔” انہوں نے کہا کہ نائٹ مارکیٹ کے منصوبے اور روپ وے کی تعمیر کے نام پر تاجروں کو بے گھر کیا گیا۔ حکومت کو نہ نالوں کا علم ہے نہ سڑکوں کی حالت۔ چرچ سے لے کر گوڈولیا تک معمولات زندگی درہم برہم ہے۔ دکانداروں کی روزی روٹی چھین لی گئی ہے۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کانگریس لیڈروں نے انتظامیہ پر جانبداری کا الزام لگایا اور احتجاج کیا۔ انہوں نے اسے عوام کی آواز کو دبانے کی سازش قرار دیا۔