کردار کا بحران

تاثیر 26 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

آج کا معاشرہ بظاہر ترقی کے کئی معیارات پر پورا اترتا دکھائی دیتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی، معاشی استحکام، جدید ذرائع آمدورفت، اور عالمی سطح پر شناخت کا حصول ہماری کامیابیوں کی گواہی دیتے ہیں۔ لیکن جب ہم سماج کے اندرونی ڈھانچے کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک گہرا خلا نمایاں ہوتا ہے،کردار کا بحران۔ یہ بحران ہمارے معاشرے کی بنیادی کمزوری کو عیاں کرتا ہے، جو محض مادی ترقی سے پُر نہیں ہو سکتا۔ تعلیم، جو کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، اگر کردار سازی سے خالی ہو تو وہ اپنا اصل مقصد کھو دیتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تعلیم کو صرف ڈگریوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے کردار سازی کا ذریعہ بنائیں، تاکہ ایسی نسلیں پروان چڑھیں جو نہ صرف پیشہ ور ہوں بلکہ ایماندار، ذمہ دار، اور انسانیت نواز بھی ہوں۔
تعلیم کا بنیادی مقصد صرف عقل کو جِلا بخشنا نہیں، بلکہ دل کو بیدار کرنا اور اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانا بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا موجودہ تعلیمی نظام اس مقصد سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ کتابی علم، امتحانات میں نمبروں کی دوڑ، اور کیریئر کی بےلگام خواہشات نے کردار سازی کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ سچائی، احترام، دیانت داری، حلال و حرام کی تمیز، اور قومی و انسانی ذمہ داریوں جیسے اوصاف اب نصاب کا حصہ نہیں رہے۔ نتیجتاً، ہم ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو تعلیمی اسناد تو رکھتی ہے، لیکن اخلاقی اقدار سے عاری ہے۔ اگر تعلیم کسی فرد کے کردار میں عاجزی، خلوص، اور ذمہ داری کی صورت میں ظاہر نہ ہو، تو وہ محض ایک کاغذی ڈگری بن کر رہ جاتی ہے، جو معاشرے کی بہتری میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کرتی۔
کردار سازی ایک جامع عمل ہے جو گھر، اسکول، مدرسہ، اور معاشرے کے باہمی تعاون سے مکمل ہوتا ہے۔ والدین اگر اپنے بچوں کے سامنے دیانت داری، سچائی، اور خوداحتسابی کا نمونہ پیش کریں، اساتذہ اگر علم کے ساتھ صبر، حلم، اور انصاف کی تعلیم دیں، اور معاشرہ اگر بدعنوانی، بےحسی، اور بداخلاقی کے خلاف اجتماعی مزاحمت کرے، تو ایک ایسی نسل تیار ہو سکتی ہے جو نہ صرف تعلیم یافتہ ہو بلکہ اخلاقی طور پر بھی مضبوط ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح، سوشل میڈیا کی سطحی چمک دمک میں الجھتی ہوئی نوجوان نسل، اور مادہ پرستی کی دوڑ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ہم اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل ہو رہے ہیں۔
دینی مدارس اور روایتی تعلیمی اداروں کو بھی اپنے نصاب پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ دینی تعلیم کو صرف کتابوں تک محدود نہ کیا جائے، بلکہ طلبہ کو عملی زندگی کے لئے تیار کیا جائے، جہاں ایمان کے ساتھ اخلاق اور علم کے ساتھ عمل کا توازن قائم ہو۔ اسی طرح، سیکولر تعلیمی اداروں کو بھی نصاب میں اخلاقی تربیت کو شامل کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر، سماجی ذمہ داری، ماحولیاتی شعور، اور انسانی حقوق جیسے موضوعات کو نصاب کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو معاشرتی اقدار کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کامیابی کا معیار دولت، شہرت، اور طاقت سے ناپا جاتا ہے، نہ کہ کردار، سچائی، یا قربانی سے۔ جب تک ہم کامیابی کے اس معیار کو تبدیل نہیں کریں گے، کردار سازی کو ترجیح دینا مشکل رہے گا۔ میڈیا، جو آج کل معاشرتی رجحانات کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کو بھی اخلاقی اقدار کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر ایسی مہمات چلائی جائیں جو ایمانداری، ہمدردی، اور سماجی ذمہ داری کو اجاگر کریں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم تعلیم کو کردار سازی کے سانچے میں ڈھالیں۔ اسکولوں کے نصاب میں اخلاقیات کے مضامین کو اہم مقام دیا جائے، دینی و دنیاوی تعلیم میں توازن قائم کیا جائے، اور معاشرے کے ہر طبقے کو اخلاقی اقدار کے فروغ کے لئے متحرک کیا جائے۔ ایک ایسا معاشرہ ،جہاں تعلیم محض روزگار کا ذریعہ نہ ہو، بلکہ تربیتِ نفس، شعورِ انسانیت، اور خدمتِ خلق کا محرک ہو، وہی ایک مضبوط، متحد، اور پائیدار قوم کی ضمانت دے سکتا ہے۔ یاد رکھیں، قومیں ہتھیاروں یا دولت سے نہیں، بلکہ اپنے افراد کے کردار سے بنتی اور بگڑتی ہیں۔ اگر ہم نے آج کردار سازی پر توجہ نہ دی، تو کل ہماری ترقی کی عمارت کھوکھلی بنیادوں پر کھڑی ہوگی، جو کسی بھی طوفان میں منہدم ہو سکتی ہے۔
****************