تاثیر 7 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہار کی سیاست ایک بار پھر دلچسپ موڑ پر آ کھڑی ہے۔ لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے سربراہ اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے اِس سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے ایک بڑا اعلان کر کے سب کو چونکا دیا ہے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ وہ نہ صرف خود بہار سے انتخاب لڑیں گے بلکہ ان کی پارٹی ریاست کی تمام 243 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔یہ اعلان محض ایک سیاسی بیان نہیں، بلکہ سیاسی مبصرین اسے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے اندرونی اتحاد کے لئے ایک بڑا چلینج اور بہار کی سیاست کے مستقبل کےلئے ایک نئے موڑ کا پیش خیمہ مان رہے ہیں۔ چراغ کا یہ عز م کہ وہ بہار کے عوام کےلئے ’بہار فرسٹ، بہاری فرسٹ‘ کے نظریے کے تحت انتخابی میدان میں اتریں گے، ان کی سیاسی حکمت عملی اور عزائم کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے۔
چراغ پاسوان کا یہ فیصلہ 2020 کے اسمبلی انتخابات کی یاد دلاتا ہے، جب انہوں نے جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے 137 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ اس حکمت عملی نے نتیش کمار کی پارٹی کو خاصی نقصان پہنچایا اور جے ڈی یو کی سیٹوں کی تعداد 71 سے گھٹ کر 43 ہو گئی۔ اس بار بھی چراغ کا اعلان این ڈی اے کے اتحاد میں دراڑیں ڈالنے کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً جب بی جے پی اور جے ڈی یو دونوں ہی زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر چناؤ لڑنے دعویٰ کر رہے ہیں۔ چراغ کی جانب سے تمام سیٹوں پر انتخاب لڑنے کا اعلان، این ڈی اے کے سیٹ شیئرنگ مذاکرات کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے، کیونکہ بی جے پی اور جے ڈی یو ، دونوں -100 100 سیٹوں کے خواہاں ہیں، جبکہ دیگر اتحادی جماعتیں بھی اپنا حصہ مانگ رہی ہیں۔
چراغ پاسوان نے اپنی حالیہ ریلیوں میں، خصوصاً چھپرہ کے راجندر اسٹیڈیم میں 6 جولائی کو منعقدہ ’نو سنکلپ مہاسبھا‘ میں، نتیش کمار کی قیادت والی حکومت پر سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے بہار میں بڑھتی ہوئےجرائم کی شرح، خصوصاً قتل، ڈکیتی اور اغوا کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہار میں قانون و انتظام کی صورتحال ’انتہائی ابتر‘ ہے اور جرائم پیشہ افراد بے خوف ہو کر جرائم کر رہے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ جمعہ کی شب میں پیش آنے والے ایک بڑے تاجر اور سیاسی و سماجی رہنما کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے نتیش حکومت سے عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
اس کے علاوہ، چراغ نے اپنے سیاسی مخالفین، خصوصاً راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس پر بھی سخت حملے کیے، ان پر آئین کی روح کے ساتھ کھلواڑ کرنے اور بہار کے عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے 1975 کی ایمرجنسی اور آئین کے دیباچے میں ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن کو نشانہ بنایا۔ تاہم، ان کا اپنی ہی اتحادی جماعت جے ڈی یو پر بالواسطہ حملہ اور نتیش کمار کی قیادت پر سوالات اٹھانا این ڈی اے کے اندر تناؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ جیتن رام مانجھی جیسے اتحادی لیڈروں کی اس حالیہ تنبیہ کہ چراغ 2020 والی ’غلطی‘ نہ دہرائیں، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اتحاد کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
چراغ کی حالیہ سرگرمیاں، جن میں نالندہ اور دیگر اضلاع میں بڑی ریلیوں کا انعقاد شامل ہے، ان کی سیاسی حکمت عملی کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی پارٹی کی بنیادی ووٹر برادری یعنی پاسوان طبقے کو متوجہ کر رہے ہیں بلکہ نوجوانوں اور خواتین جیسے دیگر ووٹنگ بلاکس کو بھی اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ جے ڈی یو کے مقابلے میں ایل جے پی (رام ولاس) ایک چھوٹی پارٹی ہے اور اسے اپنا ووٹ بیس بڑھانے کے لئے غیر معمولی کوششوں کی ضرورت ہو گی۔
بہر حال ، چراغ پاسوان کا یہ اعلان کہ وہ خود اسمبلی انتخاب لڑیں گے اور ان کی پارٹی تمام سیٹوں پر مقابلہ کرے گی، بہار کی سیاست میں ایک نیا موڑ لا سکتا ہے۔ کیا وہ اپنے والد رام ولاس پاسوان کی طرح بہار کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کریں گے یا پھر ان کا یہ داؤ ایک بار این ڈی اے کے اتحاد کو کمزور کرنے والا ثابت ہوگا ؟ اس سوال کا جواب ، آنے والا وقت ہی دے سکے گا، لیکن فی الحال ان کے اس اعلان نے بہار کی سیاسی فضا کو تھوڑا اور گرم کر دیا ہے۔
******************

