تاثیر 10 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
وڈودرا، 10 جولائی :۔ آنند اور وڈودرا شہر کو ملانے والے گمبھیرا پل حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 15 ہو گئی ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تین لاپتہ افراد کی تلاش میں ریسکیو آپریشن ابھی بھی جاری ہے۔ دریا میں مزید دو گاڑیوں کے پھنسنے کا خدشہ ہے۔ یہ حادثہ ایک دن پہلے بدھ کی صبح پیش آیا۔
کلکٹر کے مطابق، دو دیگر گاڑیاں جو حادثے کا شکار ہوئیں اور دریا میں گرنے کے قریب تھیں، کو محفوظ مقام پر کھینچ لیا گیا ہے۔ وڈودرا (دیہی) کے پولیس سپرنٹنڈنٹ روہن آنند نے بتایا کہ پل کی 10 سے 15 میٹر لمبی سلیب صبح کے وقت گر گئی۔دوسری جانب ریاستی حکومت کے ترجمان اور کابینی وزیر رشیکیش پٹیل نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس ندی پر ایک نیا پل بنانے کی فوری منظوری دے دی ہے۔ اس کے لیے 212 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔گمبھیرا پل 900 میٹر لمبا ہے جس کا افتتاح 1985 میں کیا گیا تھا، تین سال قبل انتظامیہ نے اس کا معائنہ کیا تھا اور اس وقت رپورٹ منفی آئی تھی۔ اس کے باوجود پل کو ٹریفک کے لیے کھلا رکھا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ نو روز قبل بھی اس کا معائنہ کیا گیا تھا۔ یہ خوش قسمتی تھی کہ دریا میں پانی کم تھا ورنہ اس حادثے میں زیادہ لوگ جان سے ہاتھ دھو سکتے تھے۔راحت اور بچاؤ کا کام رات گئے تک جاری رہا۔ مٹی اور سرامک ٹائلوں سے بھرے ٹرک کو دریا سے ہٹا کر تلاشی لی جارہی ہے۔ کلکٹر اور دیگر حکام صبح سے جائے حادثہ پر موجود ہیں اور بچاؤ کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
یہ کارروائی رات گئے فلڈ لائٹس لگا کر کی گئی۔ ٹرک کو کھینچنے کے لیے تاریں لائی گئیں۔ اسے ہٹاچی مشین سے باندھ کر سیدھا کیا گیا جس سے تین افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔ پڈرا کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں طبی معائنے کے بعد لاشوں کو ان کے لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔

