نیشنل ہیرالڈ کیس میں ای ڈی کی شکایت پر 29 جولائی کو نوٹس لینے کا فیصلہ

تاثیر 14 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 14 جولائی: راؤز ایونیو کورٹ نے نیشنل ہیرالڈ معاملے میں ای ڈی کی شکایت پر نوٹس لینے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ خصوصی جج وشال گوگنے نے 29 جولائی کو نوٹس لینے کے معاملے پر فیصلہ سنانے کا حکم دیا۔معاملے کی سماعت کے دوران ای ڈی نے کہا کہ کانگریس کو چندہ دینے والے لوگوں کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ چندہ دینے والوں میں سے کچھ کو ٹکٹ دیے گئے۔ سماعت کے دوران ای ڈی کی جانب سے اے ایس جی ایس وی راجو نے اس معاملے میں گواہوں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو چندہ دینے والے لوگوں کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ چند ڈونرز کو ٹکٹ بھی دیے گئے۔ اے ایس جی ایس وی راجو نے گاندھی خاندان کی اس دلیل کی مخالفت کی کہ ان کا ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (اے جے ایل) پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اے جے ایل اصل میں نیشنل ہیرالڈ کا پبلشر تھا۔
اس معاملے میں 5 جولائی کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈوکیٹ آر ایس چیمہ نے کہا تھا کہ کانگریس نے اے جے ایل کو بیچنے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہ اس ادارے کو بچانا چاہتی ہے کیونکہ یہ تحریک آزادی کا حصہ تھا۔ چیمہ نے پوچھا تھا کہ ای ڈی اے جے ایل کی میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کیوں نہیں دکھا رہا ہے۔ اے جے ایل کی بنیاد 1937 میں جواہر لال نہرو، جے بی کرپلانی، رفیع احمد قدوائی اور دیگر کانگریسی رہنماؤں نے رکھی تھی۔ چیمہ نے کہا تھا کہ اے جے ایل کی میمورنڈم آف ایسوسی ایشن میں کہا گیا ہے کہ اس کی تمام پالیسیاں کانگریس کی ہوں گی۔